طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے: سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی طلاق سے متعلق پٹیشن نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے۔عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 7 اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا۔بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین/ آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :