بہتر انتظامات مگر انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزیاں اور کم ٹرن آؤٹ، ضمنی انتخابات پر فافن کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
23 نومبر کو قومی اور پنجاب اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات مجموعی طور پر بہتر انداز میں منعقد ہوئے، تاہم انتخابی مہم کے ضابطوں کی بارہا خلاف ورزیوں، نتائج کی شفافیت میں خامیوں اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ نے انتخابی عمل پر سوالات چھوڑ دیے ہیں۔
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی قواعد خصوصاً انتخابی مہم کے ضوابط پر کمزور عمل درآمد حالیہ انتخابات کا ایک مستقل مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ انتخابات میں 238 (64%) پولنگ اسٹیشنز کے قریب کم از کم 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس قائم تھے، جب کہ 184 (49%) مقامات پر ووٹرز کو لانے لے جانے کی سہولت فراہم کی گئی۔ 216 (91%) پولنگ اسٹیشنز کے باہر پارٹی کیمپس ووٹر سلپس بھی جاری کرتے رہے، جب کہ 16 (4%) پولنگ اسٹیشنز کے اندر بھی انتخابی مواد موجود پایا گیا۔
اگرچہ بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر بنیادی سہولیات موجود تھیں، تاہم خواتین، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور ٹرانس جینڈر ووٹرز کے لیے انتظامات میں عدم تسلسل دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پریزائیڈنگ افسران میں سے 89 فیصد، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران میں سے 79 فیصد اور پولنگ افسران میں سے 77 فیصد نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تربیت موصول ہونے کی تصدیق کی۔
بیلٹ کی سیکیورٹی اور ووٹ کی خفیہ پوزیشن مجموعی طور پر برقرار رہی۔ 1,072 (98%) پولنگ بوتھ پر چاروں ضروری سیل سلامت تھے، جب کہ 1,044 (96%) بوتھ پر سیکریسی اسکرینز درست طریقے سے نصب تھیں۔ مشاہدہ کاروں نے 366 بوتھ کا معائنہ کیا، جن میں سے 340 (93%) پر پولنگ منظم اور پُرامن رہی، صرف چار بوتھ غیر منظم قرار دیے گئے۔
البتہ 92 (25%) بوتھ پر پولنگ افسران نے ووٹر کا نام اور سلسلہ نمبر بلند آواز میں نہیں پڑھا، جو کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 84(4)(a) کی خلاف ورزی ہے۔ 10 (3%) بوتھ پر کم از کم ایک ووٹر کو شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے پر واپس بھیج دیا گیا۔
اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران عموماً درست طریقہ کار پر عمل کرتے رہے، تاہم 107 (29%) بوتھ پر بیلٹ پیپر پہلے سے دستخط شدہ اور 102 (28%) بوتھ پر پہلے سے مہر لگے ہوئے پائے گئے۔ یہ عمل غیر قانونی تو نہیں لیکن بیلٹ پیپر کے غلط استعمال کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
گنتی کے مشاہدے کے لیے منتخب 79 پولنگ اسٹیشنز میں سے دو پر مبصرین کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چھ (8%) پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45 پولنگ ایجنٹس کو فراہم نہیں کیا گیا، جب کہ 13 (17%) اسٹیشنز پر مبصرین کو بھی یہ فارم نہیں دیا گیا۔ اسی طرح 15 (19%) پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45 باہر آویزاں نہیں کیا گیا۔
فارم 46 کی صورتحال بھی ملتی جلتی رہی: 15 (19%) پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ایجنٹس کو، 17 (22%) پر مبصرین کو یہ فارم فراہم نہیں کیا گیا، اور 16 (21%) مقامات پر اسے باہر آویزاں بھی نہیں کیا گیا۔ 33 (43%) پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران نے ایجنٹس سے نتائج فارم پر دستخط نہیں کروائے۔
مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں میں 23 فیصد کی کمی کے ساتھ تشویشناک حد تک کم رہا، اور صرف ایک حلقے میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے اوپر ریکارڈ ہوا۔
اس کے باوجود، 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، اور گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے تمام 137 ایجنٹس نے بھی گنتی کے عمل کو تسلی بخش قرار دیا۔
فافن نے 122 تربیت یافتہ اور منظور شدہ مبصرین تعینات کیے جو 373 پولنگ اسٹیشنز اور 1,088 پولنگ بوتھ (626 مردانہ اور 462 زنانہ) کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ 833 پولنگ ایجنٹس، پولنگ عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں سے بھی گفتگو کرتے رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات پولنگ اسٹیشن ضمنی انتخابات فافن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات پولنگ اسٹیشن ضمنی انتخابات فافن پریزائیڈنگ افسران پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ایجنٹس نہیں کیا گیا بوتھ پر
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔