WE News:
2026-07-24@02:02:14 GMT

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

رات گئے کمرے کا دروازہ بند تھا اور اندر سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو میری 12 سالہ بیٹی ایک کونے میں اسمارٹ فون ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔ آنسو مسلسل بہہ رہے تھے اور چہرہ رو رو کر زرد پڑ چکا تھا۔ ہم تو بچوں سے ڈانٹ ڈپٹ بھی کم ہی کرتے ہیں، اس کی یہ حالت دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا۔ میں نے پوچھا: ’کیا ہوا؟‘ اس نے کمزور سی آواز میں کہا: ’وہ گروپ چیٹ میں میری فوٹوز کا مذاق بنا رہے ہیں… مجھے ٹرول کر رہے ہیں‘۔

میرا فوری رد عمل تھا : ’ارے، بے وقوف لڑکی، یہ کوئی بات ہے رونے کی،  یہ سب تو ہوتا رہتا ہے‘۔

میرے لیے شاید یہ ایک معمولی بات تھی لیکن اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ بعد میں احساس ہوا کہ نئی نسل جن خطرات میں جی رہی ہے، ہم والدین ان کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ یہ خطرات ہماری نسل کے تجربات سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔

ہمارے بچپن کی لڑائیاں گلی محلوں تک محدود تھیں۔ کوئی کسی کو دھکا دے دیتا، بچے آپس میں گتھم گتھا ہوتے اور بات بڑھ جاتی تو بڑے بیچ بچاؤ کرا دیتے۔ کبھی کبھی شدید جھگڑے بھی ہوجاتے، مگر نشان جسم پر پڑتے ذہن پر نہیں۔ وقت بدلا تو والدین میں  بچوں کی حفاظت کا جذبہ بڑھا، والدین نے ’زمانہ خراب ہے‘ کا نعرہ لگا کر بچوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔ مگر ان بند کمروں کے اندر جو دنیا ان کے ہاتھ میں ہے، وہ دنیا کہیں زور آور ہے۔ یہاں ذہن پر وار کیا جاتا ہے سو جسم پر تشدد کا نشان نظر نہیں آتا مگر ذہنی تشدد کے اثرات بچے کا عمر بھر پیچھا کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل تشدد؛ ایسا نفسیاتی جبر ہے جو کسی کو مسلسل خوف، بے بسی اور جذباتی مفلوجی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کراچی میں ایک انتہائی تشویشناک کیس رپورٹ ہوا۔ پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جو صرف 5 ہزار روپے میں خریدے گئے ’ہیکنگ لنکس‘ کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کے موبائل فون ہیک کرتا رہا۔ وہ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک پر جھانسہ دے کر موبائل فون میں گھس جاتا، تصاویر، ویڈیوز اور نجی معلومات چرا کر بلیک میل کرتا۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس 450 سے زائد ذاتی ویڈیوز اور 100 سے زیادہ خواتین کا مکمل ڈیٹا موجود تھا۔

اور افسوسناک بات یہ کہ اس کے گھر والے بھی اس ’کام‘ سے آگاہ تھے۔

یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ہمارے ارد گرد بسے ڈیجیٹل ماحول کا مکروہ چہرہ ہے جہاں ہمارے بچے روزانہ سانس لے رہے ہیں۔ آج کا اصل محاذ ہمارے گھروں کے اندر، ہمارے فونز اور لیپ ٹاپ کی اسکرینوں پر کھل چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ثانیہ زہرہ کیس اور سماج سے سوال

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق صرف سال 2024 میں آن لائن صنفی ہراسانی کے 3 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جن میں اکثریت نوجوان لڑکیوں کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر 18 سال سے کم عمر متاثرین سے متعلق کیسز میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ وہ انسان ہیں جن کی زندگی کسی ایک غلط کلک نے بدل دی۔ کتنے ہی کیس ایسے ہیں جو خوف، بدنامی اور خاموشی کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔

آن لائن تشدد جسمانی تکلیف نہیں دیتا، ذہنی اذیت دیتا ہے۔

سوچیے: اگر کسی لڑکی کی نجی تصویر وائرل ہو جائے، سینکڑوں لوگ اس پر تبصرے کریں تو وہ کس کرب سے گزرے گی؟

بچوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے، خود اعتمادی گر جاتی ہے، نیند ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، ڈپریشن اور انگزائٹی بڑھ جاتے ہیں۔

زیادہ تر بچے والدین کو بتانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں والدین کے غصے، تنقید اور اعتماد مزید خراب کرنے والے جملوں سے زیادہ خوف آتا ہے۔

ہمارے پاس پیکا ایکٹ موجود ہے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی بھی بن چکی ہے، مگر قانون ہونا اور قانون کی عملداری ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ قانون کے مؤثر نفاذ  کے لیے عوام کی آگہی، شکایت کنندہ کے اعتماد، اور اداروں کے تربیت یافتہ اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ اکثر کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ افراد کو یقین نہیں ہوتا کہ ان کے کیس کو رازداری سے نمٹایا جائے گا۔ جو رپورٹ ہوتے ہیں وہ عدالت تک پہنچتے ہی نہیں، اور جو پہنچ جائیں ان میں فیصلہ آنے تک متاثرہ شخص ذہنی طور پر ہار چکا ہوتا ہے۔

بہتری اسی دن آئے گی جب ہم اپنی خاموشی کو مجرموں کی طاقت بنانا بند کر دیں گے۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وکٹم بلیمنگ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جرم کے بعد سب سے زیادہ سوالات متاثرہ شخص سے کیے جاتے ہیں، جس سے وہ مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ظہران ممدانی، قصہ گو سیاستدان

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سنیں، اعتماد دیں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان سے مکالمہ کریں۔ انہیں سکھائیں کہ ہر ورچوئل دوست  قابلِ اعتماد نہیں، ہر پیغام  کا جواب ضروری نہیں، ہر لنک کو کلک  نہیں کرنا، آن لائن دوست حقیقی دوست نہیں ہوتے، اور کون سی معلومات کسی سے شیئر نہیں کرنی چاہییں۔ آن لائن ہراسانی، دھونس، بلیک میلنگ اور ڈاکسنگ، یعنی ذاتی معلومات کو افشا کر کے ہراساں کرنا، کی صورت میں فوری کیا اقدامات کرنے ہیں، یہ بھی بتانا ضروری ہے۔

موبائل چھین لینا مسئلے کو چھپانا ہے، حل کرنا نہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ ہم بچوں کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی خوف کے بغیر، ہمارے پاس آسکتے ہیں۔

کراچی کے اس کیس میں وہ لڑکی جس نے ہمت کر کے شکایت درج کرائی، اس نے صرف اپنی نہیں، بلکہ درجنوں دوسری لڑکیوں کی زندگیوں کو بھی ممکنہ تباہی سے بچا لیا۔

آخری بات: ہمارے بچوں کی دنیا بدل چکی ہے۔ اگر ہم ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہ چلے تو وہ اس پیچیدہ ڈیجیٹل دنیا میں تنہا رہ جائیں گے اور تنہا بچہ ہمیشہ ان مجرموں کا سب سے آسان شکار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: آؤ کہ کوئی خواب بُنیں کل کے واسطے

اسی لیے آگہی ہی سب سے پہلی اور سب سے اہم دفاعی لائن ہے؛ ہمارے لیے، آپ کے لیے، ہمارے بچوں کے لیے اور آگہی اور پروفیشنلزم اتنا ہی اہم ہے ان اداروں کے اہلکاروں کے لیے بھی جو ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قرۃ العین حیدر

بلیک میلنگ ڈیجیٹل تشدد ڈیجیٹل تشدد اور بچے ڈیجیٹل حملے ڈیجیٹل زخم ڈیجیٹل ہراسانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلیک میلنگ ڈیجیٹل تشدد ڈیجیٹل تشدد اور بچے ڈیجیٹل حملے ڈیجیٹل زخم ڈیجیٹل ہراسانی ڈیجیٹل تشدد سے زیادہ بچوں کی آن لائن کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف