23 نومبر ضمنی انتخاب کے نتائج کی شفافیت میں خلا تھا، فافن
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-6
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) 23 نومبرکو ہونے والے ضمنی الیکشن کے حوالے سے فافن نے رپورٹ جاری کر دی۔ فافن رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پرامن پایا۔ فافن رپورٹ کے مطابق انتخابی مہم کی پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیاں سامنے آئیں، نتائج کی شفافیت میں خلا اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔ فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں پر کمزور عملدر آمد ایک مسلسل مسئلہ رہا۔ مشاہدے کے 29 فیصد بوتھوں پر پریذائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپر پر دستخط کیے ہوئے تھے، مشاہدے کے 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپر پہلے سے مہرشدہ تھے، یہ عمل غیر قانونی نہیں تاہم بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھاسکتے ہیں۔ فافن رپورٹ کے مطابق 6 مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پرپریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، مشاہدہ کے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 کو باہر بھی آویزاں نہیں کیا گیا، 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم46 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیا گیا، 43 فیصدمشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط نہیں کروائے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیشنوں پر فافن رپورٹ
پڑھیں:
ملک میں 480 جینڈر بیسڈ کورٹس قائم ہیں لیکن نتائج صفر ہیں؛ شیری رحمان
سٹی 42 : سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ ملک میں 480 جینڈر بیسڈ کورٹس قائم ہیں لیکن نتائج صفر ہیں، جینڈر بیسڈ کورٹس موجود ہیں، قوانین بھی بن چکے، پھر بھی کنوکشن ریٹ انتہائی کم ہے ۔
ثمینہ زہری کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا ۔ 70 فیصد جینڈر بیسڈ وائلنس کیسز رپورٹ نہ ہونے کا انکشاف شیری رحمان کی جانب سے کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ ملک میں جینڈر بیسڈ وائلنس کی صرف 5 فیصد کنوکشن ریٹ ہے، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے اعداد و شمار کے پانچ فیصد کنوکشن ریٹ شرمناک ہے۔
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
شیری رحمان نے بتایا کہ رپورٹ تک پہنچنے میں خواتین کو شدید دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، متوسط اور نچلے طبقے کی خواتین کو رپورٹ درج کرانے نہیں دیا جاتا۔ خواتین کیس درج کرائیں تو پوری پولیس اور جسٹس سسٹم کی کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ ہونے کے باوجود سزا کیوں نہیں ہوتی؟ یہ اہم سوال ہے۔ پراسیکیوشن کمزور ہے، ٹریننگ نہ ہونے سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 480 جینڈر بیسڈ کورٹس قائم ہیں لیکن نتائج صفر ہیں، جینڈر بیسڈ کورٹس موجود ہیں، قوانین بھی بن چکے، پھر بھی کنوکشن ریٹ انتہائی کم ہے ۔ریپ کیسز میں کنوکشن ریٹ 0.5، ڈومیسٹک وائلنس میں 0.1 ہے۔ شیری رحمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں گزشتہ سال رپورٹ کیے گئے ریپ کیسز میں ایک میں بھی سزا نہیں ہوئی۔ سندھ میں بھی رپورٹ ہوئے کیسز میں کوئی قابلِ ذکر سزا نہیں ہوئی۔ پنجاب میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے لیکن سزا نہ ہونے کے برابر ہے۔
نیپال کرکٹ لیگ میں سٹہ، 9 بھارتی جواری گرفتار
شیری رحمان نے کہا کہ پورے ملک میں 64 فیصد کیسز میں ملزمان بری ہو جاتے ہیں، میرے سامنے پنجاب میں ملزمان کو ڈھول بجا کر ہیرو بنا کر پیش کیا گیا، ایسے ماحول میں پولیس کیا شواہد دے گی اور عدالت کیسے سزا دے گی؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی ٹریننگز ہو رہی ہیں لیکن نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ جینڈر بیسڈ وائلنس کیسز میں ہائی کورٹس میں کچھ بہتری نظر آتی ہے۔