فافن کی ضمنی انتخابات پر رپورٹ جاری: ٹرن آؤٹ انتہائی کم، مہم کی پابندیوں کی خلاف ورزیاں نمایاں
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات پر فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے جامع رپورٹ جاری کرتے ہوئے انتخابی عمل کو مجموعی طور پر منظم اور پُرامن قرار دیا ہے، رپورٹ میں متعدد اہم خامیوں اور تشویشناک پہلوؤں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، خصوصاً انتخابی مہم کے ضابطوں کی خلاف ورزیوں اور انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
فافن کے مطابق مبصرین نے پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے عمل کو مجموعی طور پر منظم، پُرامن اور قواعد کے مطابق پایا۔ 98 فیصد مشاہدہ شدہ پولنگ بوتھوں میں بیلٹ باکسز کے تمام مطلوبہ چار سیل درست حالت میں موجود تھے جب کہ 96 فیصد بوتھوں پر سیکریسی اسکرینیں بھی مناسب طور پر نصب تھیں اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپرز جاری کرنے کے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت کے تسلسل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
فافن نے انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا،مشاہدے کے 238 پولنگ اسٹیشنوں کے قریب 465 سے زائد سیاسی جماعتوں کے کیمپس قائم تھے جب کہ 184 پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی، جو الیکشن قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی پولنگ بوتھوں پر بیلٹ پیپرز سے متعلق غیر ضروری پیشگی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں، مشاہدے کے مطابق 29 فیصد بوتھوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپرز پر دستخط کیے ہوئے تھے جبکہ 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپرز پہلے سے مہرشدہ حالت میں موجود تھے۔ اگرچہ یہ عمل قانونی طور پر جرم نہیں، تاہم فافن کے مطابق اس سے بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
نتائج کی شفافیت کے حوالے سے بھی کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ فافن کے مطابق 6 پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، جب کہ مشاہدہ کیے گئے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر نہ فارم 45 باہر آویزاں کیا گیا اور نہ ہی 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم 46 پولنگ ایجنٹس کو دیا گیا۔ مزید یہ کہ 43 فیصد مشاہدہ شدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط کروانے میں ناکام رہے، جو انتخابی نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ رہا۔ فافن کے مطابق مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے محض 23 فیصد ریکارڈ ہوا، جبکہ صرف ایک حلقے میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زائد رہا، جو عوام کے انتخابی رجحان میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس کے باوجود پولنگ ایجنٹس نے انتخابی عمل پر مجموعی اطمینان کا اظہار کیا۔ فافن کے مطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے طریقہ کار پر اعتماد ظاہر کیا، جبکہ گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے 137 پولنگ ایجنٹس نے بھی گنتی کے عمل کو تسلی بخش قرار دیا۔
فافن کی اس رپورٹ نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ انتخابی عمل کو مزید شفاف، موثر اور ضابطہ اخلاق کے مطابق بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریزائیڈنگ افسران پولنگ اسٹیشنوں پر فافن کے مطابق پولنگ ایجنٹس کی نشاندہی بیلٹ پیپرز عمل کو
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم