اساتذہ کو نوٹسز جاری کرنا سراسر غیر دانشمندانہ اقدام ہے، عمران ندیم
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے نائب صدر نے ایک بیان میں کہا کہ اگر تقرری کے وقت متعلقہ ڈگری کا حامل ہونا لازمی تھا تو پھر ٹیسٹ اور انٹرویو کے مرحلے پر اُن کو روکنا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ لہٰذا اصل ذمہ دار افسران سے اظہارِ وجوہ طلب کیے جانے کے بجائے بے گناہ اساتذہ کو نشانہ بنانا انصاف اور انتظامی اصولوں کے منافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان عمران ندیم نے اپنے ایک اہم بیان میں چیف سیکریٹری اور سیکریٹری سکولز ایجوکیشن کی جانب سے متعدد اساتذہ کو جاری کردہ شوکاز نوٹسز پر شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔ عمران ندیم نے کہا کہ برسوں سے محکمہ تعلیم میں تقرر پا کر دیانت داری، محنت اور اخلاص کے ساتھ تدریسی امور سر انجام دینے والے اساتذہ کو سالانہ امتحانات کے اہم ترین ایام میں اس نوعیت کے نوٹسز جاری کرنا سراسر غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اساتذہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں گے بلکہ طلباء و طالبات کے امتحانی و تدریسی عمل پر بھی براہِ راست منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حیرت انگیز طور پر ایسے نوٹسز بعض ان اساتذہ کو بھی بھیجے گئے ہیں جن کی تقرری وفاقی پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس جیسے معتبر اداروں کے ذریعے ہوئی تھی۔ جبکہ کئی ایسے اساتذہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے ابتدائی تقرری کے بعد باقاعدہ پیشہ ورانہ امتحانات میں شرکت کرکے اپنی ڈگریاں حاصل کیں۔
عمران ندیم نے کہا کہ اگر تقرری کے وقت متعلقہ ڈگری کا حامل ہونا لازمی تھا تو پھر ٹیسٹ اور انٹرویو کے مرحلے پر اُن کو روکنا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ لہٰذا اصل ذمہ دار افسران سے اظہارِ وجوہ طلب کیے جانے کے بجائے بے گناہ اساتذہ کو نشانہ بنانا انصاف اور انتظامی اصولوں کے منافی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کئی اساتذہ قانونی رہنمائی لیتے ہوئے عدالتوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے وہ پہلے ہی موجود معاشی دباؤ میں مزید مالی مشکلات اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوں گے۔ یہ صورتِ حال کسی بھی طور گلگت بلتستان حکومت کی نیک نامی کا باعث نہیں بن سکتی۔ عمران ندیم شگری نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری سکولز ایجوکیشن سے پُرزور اپیل کی کہ ان احکامات پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے تمام اساتذہ کو غیر ضروری ذہنی و مالی پریشانیوں سے نجات دلائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2001ء میں شگر کے پسماندہ ترین علاقوں باشہ اور برالدو میں شرح خواندگی کی انتہائی کم سطح کے باعث ان مقامات کو ہارڈ ایریاز قرار دے کر بغیر پروفیشنل ڈگری اساتذہ تعینات کئے گئے تھے، جنہوں نے بعد ازاں سروس رولز کے مطابق اپنی پروفیشنل ڈگریاں حاصل کر لیں۔ اب انہی اساتذہ کو انکوائری کا نشانہ بنانا محض ذہنی اذیت کے مترادف ہے۔ لہٰذا چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ایجوکیشن سے گزارش ہے کہ اس غیر ضروری انکوائری کو فی الفور ختم کر کے اساتذہ کو اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش