آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے حکومت کا اہم اور غیرمعمولی اقدام
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سول سرونٹس کے اثاثہ جات رولز 2023 میں اہم ترمیم کر دی۔
ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق قواعد میں ’سول سرونٹ‘ کی جگہ ’پبلک سرونٹ‘ کی اصطلاح شامل کر دی گئی ہے۔ نئی تعریف کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران وفاقی و صوبائی حکومتوں کے افسران خودمختار اداروں اور سرکاری کارپوریشنز کے افسران اب اس دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔
البتہ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مستثنیٰ افراد اس تعریف کا حصہ نہیں ہوں گے۔ ترمیم کے بعد نئے قواعد براہِ راست پبلک سرونٹس پر لاگو ہوں گے۔
ترمیمی مسودہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کے تحت تیار کیا گیا تھا، جس پر ایف بی آر نے گزشتہ ماہ اسٹیک ہولڈرز سے آراء اور تجاویز بھی طلب کی تھیں۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو شیڈول ہے، جس میں پاکستان کے لیے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔