چندہ ہندو دیتے ہیں؛ مقبوضہ کشمیر کی یونیورسٹی میں مسلم طلبا کے داخلے پر ممکنہ پابندی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
بی جے پی کے مطالبے پر مقبوضہ کشمیر کی ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا پر غور کیا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بی جے پی کی قیادت نے ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
بی جے پی کے رہنماؤں نے یہ متنازع اور غیر آئینی مطالبہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو پیش کردہ ایک یادداشت میں کیا ہے۔
خیال رہے کہ بی جے پی کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی کی 50 نشستوں میں سے 42 پر مسلمان امیدوار طلبا کامیاب ہوگئے ہیں۔
بی جے پی رہنما سنیل شرما نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلتی ہے اور داخلہ صرف انہی طلبا کو ملنا چاہیے جو ماتا سے عقیدت رکھتے ہوں۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ملک بھر میں مذہبی ادارے تعلیمی مراکز چلاتے ہیں جہاں ہر مذہب کے طلبا پڑھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کی پابندیاں ملک کو تقسیم کر دیں گی۔
واضح رہے کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مذہب سے متعلق کوئی شرط درج نہیں، اور ماضی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا یہاں سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی جے پی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔