پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) پاکستان دفتر خارجہ کی جانب سے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی سے متعلق اقوام متحدہ کے ماہرین کی تازہ رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے پیر کے روز بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جو رواں سال اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سامنے آئیں، جس کا الزام دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے اسلام آباد پر عائد کیا تھا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا پاکستان اقوام متحدہ کے سپیشل پروسیجرز کے ماہرین کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے حالیہ نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جو بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ رپورٹ ایک بار پھر بھارتی قبضے کے تحت کشمیری عوام کو درپیش شدید اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہے، اس میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے ان مشاہدات پر بھی شدید پریشانی کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 2800 افراد، جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں، کو حراست میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی ترجیح، وفاقی و صوبائی حکومتوں کیساتھ تعاون جاری رکھیں گے: فیلڈ مارشل
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ تشدد، حراستی اموات، قیدیوں سے رابطے کا منقطع رہنا، قانونی کارروائی سے محروم رکھنا، اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے دینا، گھروں کو سزا کے طور پر مسمار کرنا، جبری بے دخلی، بار بار ہونے والے مواصلاتی بلیک آؤٹس، اور صحافتی آزادی کی سخت پابندیاں، جن میں 8 ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش بھی شامل ہے۔
بیان کے مطابق نفرت انگیز تقریروں، ہجومی تشدد اور بھارت بھر میں کشمیریوں اور مسلم برادریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ انتہائی قابلِ مذمت اور باعثِ تشویش ہیں، یہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کشمیری مسلمانوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ظلم و جبر کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ تحفظات درست تھے اور بھارت بھر میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔