مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال سنگین ہے، سلامتی کونسل میں پاکستان کا اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کو بریفنگ میں بتایا کہ سیاسی پیش رفت کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال اب بھی نہایت تشویشناک ہے اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں تباہ کن جنگ نے دو برسوں میں 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لی ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ پورا سماجی و معاشی ڈھانچہ تقریباً ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود 300 سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ زمینی صورتحال پرامن نہیں ہوئی۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ حالیہ سیاسی کوششوں میں اعلیٰ سطح کے اجلاس، نیویارک اعلامیہ اور شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس اہم سنگِ میل ہیں، جن کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا، انسانی بحران کا ازالہ کرنا اور دو ریاستی حل کی طرف عملی پیش رفت کرنا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کو مثبت اقدام قرار دیا۔
عاصم افتخار نے امن عمل کی کامیابی کے لیے چند اہم نکات پر زور دیا:
جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد
انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی
غزہ کی تعمیرِ نو کا فوری آغاز
غیر قانونی بستیوں اور جبری بے دخلی کا خاتمہ
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب
1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد اصولی ہے، اور پاکستان ان کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔