سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز

نیویارک:(آئی پی ایس)
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر بریفنگ کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں سیاسی پیشرفت کے باوجود صورتحال بدستور نہایت سنگین ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

عاصم افتخار نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ صدرِ محترم ہم نائب خصوصی کوآرڈی نیٹر برائے مشرق وسطیٰ امن عمل جناب رامیز الاکبروف کے جامع بریفنگ پر اُن کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے دنیا نے غزہ میں ایک تباہ کن جنگ کو کرب اور حیرت کے ساتھ دیکھا ہے، ایسی جنگ جس نے محصور، محاصرے میں جکڑے، بارہا بمباری کا شکار اور بھوک سے نڈھال فلسطینی عوام پر ناقابلِ بیان مصیبتیں ڈھا دی ہیں۔

70 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ تقریباً پوری سماجی و معاشی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، اور احتساب کی پکاروں کا جواب مکمل استثنیٰ کے ساتھ دیا گیا۔

پاکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ اس ہولناک منظرنامے کے بیچ، اور اسرائیلی جارحیت کے لگاتار حملوں کے باوجود، دو اہم پیش رفتیں سامنے آئیں، پہلی یہ کہ فلسطینی مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے جولائی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد 12 ستمبر کو نیویارک اعلامیہ منظور کیا گیا، اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران 22 ستمبر کو اس کانفرنس کے دوبارہ آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔

اس اعلامیے میں ایک آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے ٹھوس، وقت مقررہ اور ناقابلِ واپسی اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا گیا، جو عالمی برادری کی بھرپور خواہش کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر دوسرا فیصلہ کن موڑ آیا جو سیاسی روابط اور مسلسل سفارت کاری کا نتیجہ تھا، شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس خطے اور عالمی شراکت دار ایک مشترکہ مقصد کے گرد جمع ہوئے، جنگ بندی کو برقرار رکھنا، انسانی تباہی کا ازالہ کرنا، اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی راستے کی بنیاد رکھنا۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اسی عمل نے گزشتہ ہفتے اس کونسل کی جانب سے قرارداد 2803 کی منظوری کی راہ ہموار کی۔ اور یہ سب کچھ 23 ستمبر کو 8 عرب اسلامی ممالک کے صدر ٹرمپ کے ساتھ اجلاس سے شروع ہوا۔ اس اہم گروپ کا حصہ ہونے کے ناطے پاکستان نے صدر ٹرمپ کی اس پہل اور ذاتی کاوشوں کا خیرمقدم کیا، نیز جنگ کے خاتمے، غزہ کی تعمیرِ نو، بے دخلی کی روک تھام، جامع امن کے فروغ اور مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے سے متعلق تجاویز کی حمایت کی۔ ا

ان کا کہنا تھا کہ س تمام عرصے میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا ہے، جو فلسطینی عوام اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے ہماری اصولی اور دیرینہ حمایت کا تسلسل ہے۔ لیکن اب بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں شہریوں سمیت بچوں کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مستقل مندوب نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تین سو سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں یہ ایک کڑوی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے زبانی طور پر اعلان کردہ امن نے زمینی سطح پر ابھی تک مکمل تحفظ اور استحکام فراہم نہیں کیا۔ جانیں اب بھی ضائع ہو رہی ہیں، گھر اب بھی مسمار ہو رہے ہیں، اور خاندان اب بھی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ مغربی کنارہ بھی کسی لحاظ سے کم تباہ کن صورتحال کا شکار نہیں ہے۔ اسرائیلی آبادکاروں اور فوجی جارحیت میں بے مثال اضافہ ہوا ہے، اور اکتوبر وہ مہینہ ثابت ہوا جس میں 2006 میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ آبادکارانہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ب

ندشوں، چھاپوں اور بڑھتے ہوئے خوف و ہراس کے ماحول میں پورے کے پورے دیہات بے گھر کر دیے گئے ہیں، خصوصاً شمالی مغربی کنارے میں۔ فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دی جانی چاہیے، اور کمیونٹی کو مستقل خوف کے بغیر معمول کے مطابق چلنے کے قابل ہونا چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل پانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل پاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف وفاقی آئینی عدالت میں خالی اسامیوں پر کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا،افغانستان،بھارت، فتن الہندوستان اور پی ٹی ایم کا پردہ چاک وزیراعظم سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات، پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم گلگت بلتستان حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت ختم، نوٹیفکیشن جاری، کل نگران وزیر اعلیٰ کا اعلان متوقع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے باوجود

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا