چین بیرون ملک سرمایہ کاری کے حجم کے لحاظ سے دنیا میں مستقل طور پر تیسرے نمبر پر برقرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
چین بیرون ملک سرمایہ کاری کے حجم کے لحاظ سے دنیا میں مستقل طور پر تیسرے نمبر پر برقرار WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
بیجنگ :رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں، مختلف شعبوں میں چین کی کل عالمی براہ راست سرمایہ کاری 923.68 بلین یوآن تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال 4.4 فیصد کا اضافہ ہے۔ پیچیدہ اور غیر مستحکم عالمی ماحول کے پس منظر میں، چین کی بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری میں عالمی رجحان کے برعکس اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سرمایہ کاری کا حجم دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
چینی کمپنیاں مختلف شعبوں میں بیرون ملک فیکٹریاں قائم کر رہی ہیں، اور یہ دنیا کے 151 ممالک اور خطوں تک پہنچ چکی ہیں۔عالمی سطح پر جانے والی چینی کمپنیوں کے لیے ایک اہم تبدیلی مصنوعات کی برآمد سے آگے بڑھ کر منظم ٹیکنالوجیز اور حل کی فراہمی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
“میڈ اِن چائنا” اب صرف دنیا کی فیکٹری کا مترادف نہیں رہا بلکہ یہ دنیا کے جدید صنعتی نظام کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔2024 کے آخر تک، چین نے بیرون ملک 50,000 سے زائد کمپنیاں قائم کی ہیں، جو ہر سال اوسطاً 20 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ عالمی معیشت میں چینی سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی شراکت واضح ہو رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین-امریکہ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم اور بہتر رہے ہیں، چینی صدر اگلی خبرپاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف متنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کرنے والا ملک بن گیا خیبرپختونخوا: بنوں میں فورسز کے آپریشن میں بھارتی حمایت یافتہ 22 دہشتگرد ہلاک سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، پاکستان پانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل پاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری بیرون ملک
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔