تعلیم یا سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی؟ کیمبرج بورڈ کے امتحانات اور پاکستان کی قومی کمزوری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: آخرکار سوال یہ ہے کہ ہم کس نظام کو روئیں؟ مالی نقصان کو، تعلیمی بحران کو یا ذہین بچوں کی بیرون ملک روانگی کو؟ سچ یہ ہے کہ سب کو روکنا ہوگا، وقت ہے قومی شعور اور عملی اقدامات کا، بصورت دیگر ہم وہی کرتے رہیں گے جو برسوں سے کر رہے ہیں، اپنی نسل اور اپنا سرمایہ خود ہی باہر منتقل کرنا اور پھر افسوس کرنا، پاکستان میں تعلیم کو اگر صرف بین الاقوامی سٹیمپ کے حصول تک محدود رکھا گیا تو ہم نہ صرف اپنا خزانہ بلکہ اپنا مستقبل بھی گنوا بیٹھیں گے۔ تحریر: عرض محمد سنجرانی
پاکستان میں تعلیم کا مسئلہ آج محض معیار، نصاب یا استاد کے معاملے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ قومی خزانے، نوجوان ذہانت، ملکی مستقبل اور معاشرتی انصاف تک پہنچ چکا ہے۔ برٹش کونسل کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس سال پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ امیدوار او لیول کے امتحان میں حصہ لیں گے اور آٹھ مضامین کی فیس فی امیدوار 211000 روپے ہے، یعنی صرف ایک امتحان سے کیمبرج بورڈ پاکستان سے تقریباً 21 ارب روپے سالانہ وصول کرلے گا۔ یہ وہ رقم ہے جو ہمارے ملک کی ہائر ایجوکیشن، تحقیق اور مقامی تعلیمی اداروں کے لیے سب سے بڑی سرمایہ کاری کا تین سے چار گنا ہے کیونکہ وفاقی حکومت کا پورے سال کا ہائی ایجوکیشن بجٹ صرف 6 ارب روپے ہے، اس کا مطلب ہے کہ ایک امتحان کی فیس ہماری پوری سالانہ ہائر ایجوکیشن کی سرمایہ کاری سے تین گنا زیادہ ہے، اور یہ صرف ایک امتحان کی بات ہے۔
جب ہم اے لیول، آئی جی ایس ای اور جی سی ایس ای کو بھی شامل کریں تو صرف غیر ملکی امتحانات کے ذریعے پاکستان سے باہر جانے والی رقم تقریباً 30 ارب روپے بنتی ہے اور چونکہ یہ امتحانات سال میں دو بار منعقد ہوتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ایک سال میں پاکستان سے 50 ارب روپے محض ایک یونیورسٹی کے خزانے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ایک وسیع تعلیمی، سماجی اور ثقافتی بحران کی نشاندہی بھی ہے، ہمارے ذہین طلباء جو ملکی ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں وہ غیر ملکی تعلیمی نظام کی طرف راغب ہو رہے ہیں، یہ ذہانت اور قابلیت جو پاکستان میں ترقی کے لیے استعمال ہو سکتی تھی بیرون ملک منتقل ہو کر ہمارے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے، ہم اپنے ملک کی نوجوان نسل کو عالمی سطح پر معیاری مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہیں جبکہ غیر ملکی تعلیمی ادارے ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف مالی وسائل بلکہ علمی اور تخلیقی صلاحیتیں بھی اپنے قبضے میں لے رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام داخلی طور پر کمزور ہے اور عالمی تعلیمی منڈی میں ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر کام کر رہا ہے، ہم اپنے ہونہار طلباء کو مناسب مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہیں اور ملکی دولت مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں سرمایہ کاری کے بجائے انخلاء اور بچت کی کمی ہے جبکہ غیر ملکی ادارے ہمارے ملک میں داخل ہو کر اپنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس بحران کے حل کے لیے فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے، سب سے پہلے ہمیں اپنے مقامی تعلیمی اداروں کی مضبوطی اور معیار کو بین الاقوامی سطح تک لے جانا ہوگا تاکہ طلباء کو ملکی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب ملے، دوسرے، ہمیں غیر ملکی امتحانات کے متبادل قومی امتحانی نظام قائم کرنا ہوگا جو نہ صرف معیاری بلکہ سستا اور سب کے لیے قابل رسائی ہو۔
تیسرے، ذہین طلباء کے لیے سستی اور معیاری مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ انہیں بیرون ملک تعلیم کی ضرورت نہ پڑے اور وہ اپنی صلاحیتیں پاکستان کی ترقی میں استعمال کریں، چوتھے، تعلیمی پالیسی میں مالی اور علمی وسائل کی قومی سطح پر حفاظت کی جائے تاکہ ملک کی دولت اور ذہانت صرف بیرون ملک منتقل نہ ہو۔ ورنہ ہم اپنا تعلیمی مستقبل بھی کھو دیں گے اور اقتصادی و سماجی وسائل بھی مسلسل خارجی منڈی کے ہاتھ میں چلے جائیں گے، ہم جو مر کر رسوا ہوئے، کیوں نہ غرق دریا ہو جائیں؟ یہ سوال محض طنز نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے، ہم اپنی نسل، اپنے ذہین بچوں اور اپنے وسائل کو خود ہی کھو رہے ہیں اور پھر افسوس میں مبتلا ہیں، ہمارے ہونہار طلباء جو بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں بیرون ملک جا کر غیر ملکی ممالک کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں جبکہ پاکستان ان کی صلاحیتوں سے محروم رہتا ہے۔
یہ صورتحال صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ملک کی خودمختاری، ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، ہماری ایلیٹ کلاس جو او لیول، اے لیول اور دیگر امتحانات پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے اپنے بچوں کے لیے عالمی معیار ضرور حاصل کرتی ہے مگر ملک کی تعلیمی ترقی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ آخرکار سوال یہ ہے کہ ہم کس نظام کو روئیں؟ مالی نقصان کو، تعلیمی بحران کو یا ذہین بچوں کی بیرون ملک روانگی کو؟ سچ یہ ہے کہ سب کو روکنا ہوگا، وقت ہے قومی شعور اور عملی اقدامات کا، بصورت دیگر ہم وہی کرتے رہیں گے جو برسوں سے کر رہے ہیں، اپنی نسل اور اپنا سرمایہ خود ہی باہر منتقل کرنا اور پھر افسوس کرنا، پاکستان میں تعلیم کو اگر صرف بین الاقوامی سٹیمپ کے حصول تک محدود رکھا گیا تو ہم نہ صرف اپنا خزانہ بلکہ اپنا مستقبل بھی گنوا بیٹھیں گے، اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اصلاحات، قومی پالیسی اور مالی وسائل کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ نوجوان پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور قومی دولت بیرون ملک نہ جائے، یہی وہ وقت ہے جب سوچنا بھی ضروری ہے اور عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرون ملک منتقل پاکستان میں مالی نقصان میں تعلیم ارب روپے غیر ملکی یہ ہے کہ ہے کہ ہم رہے ہیں کی ترقی کے لیے ملک کی
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔