سعودی عرب میں غیرملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض:سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے جائیداد کی خرید و فروخت اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے قوانین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پراپرٹی مارکیٹ کو باضابطہ طور پر عالمی سرمایہ کاروں کے لیے کھول دیا ہے۔
رئیل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی (REGA) کے مطابق نیا فریم ورک مقامی اور غیر ملکی دونوں افراد اور کمپنیوں کو رہائشی، تجارتی اور زرعی زمین میں سرمایہ کاری کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔تھارٹی کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا مقصد پراپرٹی مارکیٹ کو فعال کرنا، تعمیراتی معیار بہتر بنانا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور شہری منصوبہ بندی کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
نئے قانون کے تحت غیر ملکی سرمایہ کار ملک کے اُن علاقوں میں جائیداد خرید سکیں گے جن کی منظوری سعودی کابینہ دے گی۔ ان علاقوں سے متعلق تفصیلی رہنما اصول، زوننگ پالیسی اور سرمایہ کاری کی شرائط جلد جاری کی جائیں گی۔ ریگا کے مطابق قوانین وضع کرتے وقت شہری ترقی، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی جیسے عوامل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
سعودی عرب اس وقت نیوم، قدیہ، اور ریڈ سی گلوبل جیسے عالمی سطح کے میگا پراجیکٹس پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جن کے لیے بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق جائیداد کی ملکی مارکیٹ کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھولنا نہ صرف ان منصوبوں کو تقویت دے گا بلکہ سعودی معیشت کو بھی نئے ترقیاتی امکانات فراہم کرے گا۔
ریگا نے اسے سعودی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملک کی طویل مدتی معاشی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے اور آئندہ برسوں میں رئیل اسٹیٹ، تعمیرات اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نمایاں مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ غیر ملکی کے لیے
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :