صرف دو ماہ میں ٹرمپ کے اثاثوں میں 1.1 ارب ڈالر کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت میں صرف دو ماہ کے دوران 1.1 ارب ڈالر کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی جریدے فوربز کے مطابق اس کمی کی سب سے بڑی وجہ ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) کے شیئرز میں شدید گراوٹ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2025 میں ٹرمپ کی مجموعی دولت 3.7 ارب ڈالر تھی، جو اب کم ہو کر 2.6 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے TMTG کے شیئرز 10.
فوربز نے بتایا کہ کرپٹو مارکیٹ میں اچانک مندی نے بھی ان کے اثاثوں کو متاثر کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال سے ستمبر 2025 تک ٹرمپ کی دولت میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ ٹرمپ فیملی کی کرپٹو سرمایہ کاری تھی۔ اس اضافہ کے بعد وہ فوربز کی امریکہ کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں 201ویں نمبر پر آئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔