ٹرمپ کے اثاثوں میں بڑی گراوٹ، صرف دو ماہ میں 1.1 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت میں صرف دو ماہ کے دوران 1.1 ارب ڈالر کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی جریدے فوربز کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ٹرمپ کی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) کے شیئرز کی شدید گراوٹ ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں برس ستمبر میں ٹرمپ کی مجموعی دولت 3.
گزشتہ ہفتے ٹی ایم ٹی جی کے شیئرز 10.18 ڈالر تک گر گئے، جس کے بعد ان کی دولت میں بڑا نقصان سامنے آیا۔
فوربز کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں اچانک آنے والی مندی نے بھی ٹرمپ کی دولت کو مزید نقصان پہنچایا۔
اس سے قبل گزشتہ سال سے رواں سال کے ستمبر تک ٹرمپ کی دولت میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ فوربز کی امریکہ کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں 201ویں نمبر پر آگئے تھے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر ٹرمپ فیملی کی کرپٹو سرمایہ کاری کے باعث ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر ٹرمپ کی کی دولت
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔