ٹیرف و سرمایہ کاری کے ذریعے دیگر ممالک سے کھربوں ڈالر حاصل کر رہے ہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ٹیرف اور سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی زمینوں سے کھربوں ڈالر حاصل کر رہے ہیں اور انہی معاشی اقدامات کی بدولت امریکا دنیا میں پہلے سے زیادہ مضبوط اور باوقار ہو چکا ہے، میں نے 8 میں سے 5 جنگوں کو براہ راست ٹیرف کی وجہ سے روکاہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی ) کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بیرونی ممالک سے ٹیرف اور سرمایہ کاری کی مد میں کھربوں ڈالر حاصل کر رہا ہے اور انہی معاشی اقدامات کی بدولت امریکا دنیا میں پہلے سے زیادہ مضبوط اور باوقار ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 8 میں سے 5 جنگیں صرف ٹیرف کی دھمکی دے کر رکوائیں ، ان پالیسیوں سے نہ صرف عالمی سطح پر تناؤ میں کمی آئی بلکہ امریکی معیشت کو بھی فائدہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں افراط زر نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ جو بائیڈن کے دور میں ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی دیکھنے میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ 9 ماہ میں 48 ویں بار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔