کوئی بھی بین الاقوامی طاقت حماس کو غیر مسلح نہیں کر سکتی، صیہونی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں زئیو ایلکن کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کے تجربے نے ثابت کیا کہ اس مقصد کو حاصل کرنا نہ تو اسرائیلی فوج کیلیے ممکن ہے اور نہ ہی غیر ملکی امن دستوں کیلیے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں یروشلم امور کے وزیر اور صیہونی رژیم کی سیکورٹی کابینہ کے رکن "زئیو ایلکن" نے اعتراف کیا کہ بین الاقوامی امن فورس کے ذریعے حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجویز زمینی حقائق کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں سیاسی حلقوں میں زیر بحث آنے والا کوئی بھی بین الاقوامی منصوبہ، حماس کی فوجی صلاحیتوں یا غزہ پٹی میں جنگ کے پیچیدہ ماحول کی درست تشخیص پر مبنی نہیں۔ زئیو ایلکن نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے خیال کو حقیقت سے دور قرار دیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ کے تجربے نے ثابت کیا کہ اس مقصد کو حاصل کرنا نہ تو اسرائیلی فوج کے لیے ممکن ہے اور نہ ہی غیر ملکی امن دستوں کے لیے۔ واضح رہے کہ مذکورہ وزیر کا یہ موقف اس تناظر میں سامنے آیا جب صیہونی رژیم نے غزہ پر حملہ کرتے وقت دعویٰ کیا تھا کہ وہ حماس کو غیر مسلح اور اس تحریک کی عسکری صلاحیت کو تباہ کر دیں گے، لیکن زمینی حقائق اور اپنے اہداف کے حصول میں صیہونیوں کی مسلسل ناکامیوں نے، اب اسرائیلی عہدیداروں کو بھی حقیقت قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔