پاکستان نے سری لنکا کو ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
پاکستان نے سری لنکا کو ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 November, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 6 وکٹوں سے ہراکر ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کردیا۔راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کی جانب سے دیا گیا 212 رنز کا ہدف 4 وکٹوں کے نقصان پر 45ویں اوور میں حاصل کر لیا۔
پاکستان کی جانب سے محمد رضوان 61 اور حسین طلعت 42 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے، فخر زمان نے 55، بابر اعظم نے 34 رنز سکور کیے جبکہ سلمان آغا 6 اور حسیب اللہ خان بغیر کھاتہ کھولے ہی پویلین لوٹ گئے۔مہمان ٹیم سری لنکا کی جانب سے جیفری وینڈرسے نے تین کھلاڑیوں کو آٹ کیا جبکہ مہیش تھکشانا نے ایک وکٹ حاصل کی۔
قبل ازیں سری لنکا نے پاکستان کی دعوت پر پہلے کھیلتے ہوئے 211 رنز بنائے، مہمان ٹیم مقررہ 50 اوورز بھی پورے نہ کھیل سکی اور پوری ٹیم 46ویں اوور میں پویلین لوٹ گئی۔سری لنکا کی جانب سے سدیرا سمارا وکرما 48 رنز بنا کر نمایاں رہے، کپتان کوشال مینڈس نے 34، پاون رتھنا یاکے نے 31، کامل مشارا نے 29 جبکہ پاتھم نسانکا نے 24 رنز سکور کیے۔مہمان ٹیم کے کمینڈو مینڈس 10، مہیش تھکشانا اور پرامود مدھوشن 7،7 جبکہ جینتھ لیانیج اور جیفری وینڈرسے 4،4 رنز ہی بنا سکے۔
پاکستان کی جانب سے محمد وسیم جونیئر نے 3کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، حارث روف اور فیصل اکرم نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کپتان شاہین آفریدی اور فہیم اشرف نے ایک، ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراردن کے شاہ عبداللہ دوم کا پاکستان کے دفاعی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز ،ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا دورہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا پاکستان کے دفاعی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز ،ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا دورہ فیلڈ مارشل عاصم منیرکی نئی تقرری بڑی اچھی ہے،ان سے بہتر اورکون ہوسکتا تھا ، مریم نواز اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو اعلی ترین سول ایوارڈ نشانِ پاکستان سے نوازا گیا موسمیاتی خطرات میں پاکستان مستقل طور پر دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، مصدق ملک حکومت قیدی 804کا نمبر تبدیل کر کے 420کر دے، احسن اقبال خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، سہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان نے سری لنکا
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔