ویٹی کن نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ پوپ لیو نے اسپین کے کیتھولک بشپ رافیل زورنوزا کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ زورنوزا پر ایک نوعمر لڑکے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں تفتیش جاری تھی، جو میڈرڈ میں ویٹی کن کے سفارت خانے میں قائم چرچ کے خصوصی ٹریبونل کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔
الزامات کے مطابق یہ واقعہ 1990 کی دہائی میں پیش آیا، تاہم زورنوزا نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ رافیل زورنوزا 2011 سے اسپین کے جنوبی ساحلی علاقے ڈایوسِس آف کادیز و سَیوٹا کی سربراہی کر رہے تھے۔ وہ اسپین کے پہلے کیتھولک بشپ ہیں جن کے خلاف ویٹی کن کی جانب سے اس نوعیت کی سرکاری تفتیش کی گئی۔
ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ مختصر پریس ریلیز میں صرف استعفیٰ منظور ہونے کی اطلاع دی گئی، جبکہ الزامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ زورنوزا کی عمر 76 سال ہے، جو کیتھولک بشپس کی روایتی ریٹائرمنٹ عمر 75 سال سے ایک سال زیادہ ہے۔
یہ واقعہ اسپین میں چرچ کے اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف جاری تفتیشوں میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے اور چرچ کی شفافیت کے حوالے سے بھی اس کی خاص اہمیت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ویٹی کن

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا