بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ نااہلی، غفلت اور کم علمی کا ملبہ تباہ ہونے والے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی صورت میں نظر آتا ہے جس میں 600 پائلٹس بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے زمین بوس ہونے کی تاریخ بہت تلخ اور خونی ہے۔ وہ چاہے مگ طیارے ہوں یا جدید ترین تیجس طیارے، بھارتی پائلٹس کے لیے اڑتے ہوئے تابوت ثابت ہوئے ہیں۔

بھارتی فضائیہ کے زیراستعمال مگ طیاروں میں MiG-21، MiG-27، MiG-29 شامل ہیں جب کہ حال ہی تیجس طیاروں کو بیڑے میں شامل کیا گیا ہے۔

بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے تباہ ہونے کے واقعات بہت زیادہ تفصیل طلب ہیں اور ان کی تعداد بھی ہزار سے زائد ہے۔

Tejas طیارے کے حادثات

تیجس طیارے بھارت میں ہی تیار کیے گئے ہیں۔ برسوں کی تحقیق اور ان گنت خزانہ لُٹانے کے بعد گزشتہ برس ہی یہ طیارے انڈین ایئر فورس کے بیڑے میں شامل ہوئے۔

بیڑے کا حصہ بنتے ہی 12 مارچ 2024 پہلا تیجس طیارہ ریاست راجستھان میں تربیتی مشق کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ پائلٹ نے بروقت چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی اور اربوں روپے مالیت کے طیارے کو زمین پر گرنے دیا۔

تیجس طیارہ حادثے کا دوسرا واقعہ آج دبئی ایئر شو میں پیش آیا جہاں فضا میں کرتب دکھانے کے دوران آگ بھڑک اُٹھی اور پائلٹ کو باہر نکلنے کی بھی مہلت نہ مل سکی۔ طیارہ پائلٹ سمیت زمین بوس ہوگیا۔

اس طرح صرف ایک سال کے دوران دو تیجس طیارے گر کر تباہ ہوچکے ہیں جب کہ ان طیاروں کو بھارت نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا تھا اور طیاروں کی کھیپ کی حوالگی کی تقریب میں مودی بھی شریک ہوئے تھے۔

MiG طیاروں کے مختلف حادثات (MiG-21، MiG-27، MiG-29)

MiG-21

MiG-21 طیاروں کی حادثاتی شرح باعث تشویش رہی ہے۔ تقریباً 468 حادثات میں 200 پائلٹس مارے گئے۔ یہ سب سے زیادہ عرصے تک استعمال ہونے والے طیارے تھے۔

3 مئی 2002 کو MiG-21 طیارہ جالندھر کے علاقے میں انجن فیل ہونے کے بعد ایک عمارت پر گرگیا تھا۔ پائلٹ نے طیارے سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچالی اور طیارے کو رہائشی گھر پر گرنے دیا جہاں 8 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔

اسی طرح 2018 میں بھی ایک MiG-21 طیارہ کنگرا کے علاقے میں تباہ ہوگیا تھا جس میں پائلٹ بھی ہلاک ہوا۔

MiG-27

MiG-27 کو بھارتی فضائیہ نے 1985 میں متعارف کرایا تھا اور یہ بھی بہت زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔

16 فروری 2010 کو ایک MiG-27 طیارہ انجن ناکارہ ہوجانے کے باعث حادثے کا شکار ہوا اور سیلیگوری کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔

27 جنوری 2015 کو بھی ریاست راجستھان کے قریب MiG-27 طیارہ تباہ ہوا۔ یہ طیارے انجن کی خرابی ہائیڈرولک فیلیئر اور ایجیکشن کے مسائل کا شکار رہے۔

جس کے باعث MiG-27 کو 27 دسمبر 2019 کو ریٹائرڈ کردیا گیا تھا۔ یہ طیارے اب بیڑے کا حصہ نہیں ہیں۔

MiG-29

1986 میں بھارتی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بننے والے MiG-29 طیاروں کے اب تک کم از کم 25 بڑے حادثات ہوچکے ہیں۔

8 مئی 2020 کو ایک MiG-29 طیارہ جالندھر شہر کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ پائلٹ نے بحفاظت ایجیکٹ کیا۔

اسی طرح 2 ستمبر 2024 کو بھی ایک اور مگ 21 رات کی تربیتی پرواز کے دوران راجستھان میں گر کر تباہ ہوا۔ اس میں بھی پائلٹ محفوظ رہا۔

آگرہ میں 4 نومبر 2024 کو معمول کی پرواز کے دوران ایک اور مگ 21 طیارہ تباہ ہوا اس واقعے میں بھی پائلٹ نے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچالی تھی۔

مجموعی طور پر، MiG سیریز خاص طور پر MiG-21 کو بالخصوص بھارتی فضائیہ کی تاریخ میں ایک خطرناک طیارہ قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ مستقبل میں یہی خدشات ماڈرن طیارے تیجس کے بارے میں ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ کے گر کر تباہ کے دوران تباہ ہوا پائلٹ نے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی