Express News:
2026-06-03@00:38:05 GMT

اسرائیل اور ریپ کا ہتھیار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

جنگی ہتھیاروں میں ریپ بھی شامل ہے۔ ریپ یا اس کی دھمکی کے ذریعے دشمن سے معلومات اگلوانے کی کوشش ہوتی ہے ، محکوم کی عزتِ نفس تار تار کر کے نفسیاتی طور پر ختم کرنا اور یہ باور کرانا مقصود ہوتا ہے کہ تم کتنے بے بس ہو ، تمہارے ساتھ ہم جب چاہیں کچھ بھی کرنے پر قادر ہیں۔

ریپ بطور ہتھیار کوئی اتفاقی یا اضطراری عمل نہیں بلکہ صدیوں سے سوچی سمجھی عسکری حکمتِ عملی کا اہم جزو ہے۔’’ مہذب دور ‘‘ میں روانڈا، سابق یوگو سلاویہ اور اب سوڈان میں ریپ کا بطور ہتھیار وسیع استعمال سامنے کی مثالیں ہیں۔ فلسطین بھی اس ہتھیار کی زد سے باہر نہیں۔اس کا سب سے اہم گواہ خود اقوامِ متحدہ ہے۔

دو ہزار اکیس میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ فلسطین میں ریپ کے اسٹرٹیجک استعمال کے الزامات کی جانچ کے لیے ماہرین کا ایک تین رکنی آزاد کمیشن تشکیل دیا۔کمیشن کی رپورٹ اس سال مارچ میں منظرِ عام پر آئی۔اس میں صاف صاف لکھا گیا کہ فلسطین میں اسرائیلی سیکیورٹی دستوں کی جانب سے عام لوگوں کو برسرِ عام ننگا کرنا اور ریپ یا ریپ کی دھمکی ایک عمومی رویہ ہے۔اس رویے میں فلسطینیوں کے حساس اعضا کو بزورِ تشدد ناکارہ بنانا بھی شامل ہے۔ اس جنسی تشدد کو اسرائیلی سرکاروں اور فوج کی اعلیٰ ترین قیادت تک تائید اور حوصلہ افزائی حاصل ہے۔

توقع کہ عین مطابق اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ فوجی ضوابط اور اندرونی احتساب کے ڈھانچے میں جنسی تشدد کی شکایات کے تدارک کے لیے ایک فعال اور موثر طریقہِ کار تندہی سے کام کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو لغو بتاتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کونسل دراصل اسرائیل دشمن سرکس ہے۔

مگر پھر ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ گھر کے بھیدی نے ہی لنکا ڈھا دی ، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔اسرائیلی فوج کی ایڈووکیٹ جنرل میجر جنرل یفات تومر یروشلامی کو تین ہفتے پہلے جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا۔پھر خبر آئی کہ انھیں حراست میں لے لیا گیا۔پھر خبر آئی کہ میجر جنرل یفات نے اعتراف کر لیا ہے کہ انھوں نے ہی وہ وڈیو لیک کی ہے جس میں جنوبی اسرائیل کے سدی تمان فوجی کیمپ میں اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی قیدی کو فوجی ڈھالوں کے سائے میں دھاتی ڈنڈوں سے ریپ کر رہے ہیں۔ یہ ایسی وحشیانہ واردات تھی کہ اب تک اس قیدی کی بیس سرجریز ہو چکی ہیں۔اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔اس قیدی کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

 وڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پانچ فوجیوں کو بادلِ ناخواستہ حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی۔مگر انتہاپسند اسرائیلیوں نے ریپسٹ فوجیوں کی گرفتاری کے خلاف سدی تمان کیمپ کے گیٹ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ان فوجیوں کو ٹی وی چینلز پر ہیرو قرار دیا گیا۔ارکانِ پارلیمان نے ان کی گرفتاری پر نکتہ چینی کی۔جس قیدی کا ریپ ہوا الٹا اسے موردِ الزام ٹھہرایا گیا کہ وہ حماس کا ایک خطرناک جنگجو ہے۔تاہم چھان پھٹک کے بعد معلوم ہوا کہ وہ تو کوئی عام شہری ہے۔

کچھ ہفتے بعد ریپسٹ فوجیوں کو اسرائیل فوج کے چیف رباعی نے معاف کر دیا۔ان مجرموں کی وڈیو لیک کرنے والی اسرائیلی فوج کی ایڈووکیٹ جنرل میجر جنرل یفات غدار قرار پائیں۔وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی میجر جنرل یفات کی اس حرکت کو اسرائیلی ریاست اور فوج کو بدنام کرنے کی ملکی تاریخ کی سب سے مذموم کوشش قرار دیا۔

آٹھ دہائی تک یہ تصویر بنائی جاتی رہی کہ اسرائیل خطے کا سب سے مہذب اور جمہوری ملک ہے۔ اسرائیلی شہریوں کو قانون کا مکمل یکساں تحفظ حاصل ہے۔اسرائیلی فوج دنیا کی سب سے بااخلاق اور اصول پسند فوج ہے۔اس کا اندرونی احتسابی نظام آہنی ہے وغیرہ وغیرہ۔

مگر اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ کہ اسرائیلی فوج ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے اور ٹارچر کے دوران فلسطینیوں کے جنسی اعضا کو بھی ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔اس بابت اسرائیلی فوج کی ایڈوکیٹ جنرل کی گواہی نے اسی برس سے جاری خودساختہ مثبت تاثر اڑا کے رکھ دیا۔

 ان حالات و واقعات پر اس لیے بھی حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ خود اسرائیلی سماج کے اندر بھی ریپ اور جنسی ہراسگی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے سنجیدگی سے نپٹنے کے بجائے درگزر کی روائیت مستحکم ہے۔

مثلاً ایک اسرائیلی این جی او ایسوسی ایشن آف ریپ کرائسس سینٹرز ان اسرائیل ( اے آر سی سی آئی ) کا اندازہ ہے کہ ہر تین میں سے ایک عورت کم ازکم ایک بار جنسی حملے کا نشانہ بنی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سماج میں جنسی تشدد کی شرح یورپ کے مقابلے میں دس فیصد زائد ہے۔

جنسی ہراسانی کے قانون کے تحت مجرم کو چار برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ سب سے مشہور کیس سابق اسرائیلی صدر موشے کستاف کا ہے۔انھوں نے ایک خاتون کے اس الزام کے بعد دو ہزار سات میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا کہ جب موصوف نوے کی دہائی میں وزیرِ سیاحت تھے تو مذکورہ خاتون ان کے اسٹاف میں شامل تھی اور اسے دو بار ریپ کیا گیا۔موشے کستاف کے صدر بننے کے بعد بھی دو ہزار تین اور پانچ میں جنسی ہراسگی کے الزامات سامنے آئے۔دو ہزار گیارہ میں ایک عدالت نے موشے کستاف کو سات برس کے لیے جیل بھیج دیا۔

دسمبر دو ہزار پندرہ میں نائب وزیرِ اعظم سلوان شالوم نے جنسی ہراسانی کے الزامات کے سبب استعفی دے دیا۔ان کے پاس وزارتِ داخلہ و خارجہ کا قلمدان بھی رہ چکا تھا۔

اسرائیلی شہریوں کو تو پھر بھی کچھ نہ کچھ انصاف میسر ہے مگر لاکھوں فلسطینی اس نظام سے بالکل باہر ہیں اور اسرائیل میں کام کرنے والے غیر ملکی ورکرز سب سے زیادہ تنہا ہیں۔

امیگریشن امور کے دو اسرائیلی ماہرین ڈاکٹر یاہل کرلینڈر اور ڈاکٹر شاہار شوہام کی ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ زراعت کے شعبے میں سب سے زیادہ غیر ملکی کارکن تھائی لینڈ سے منگوائے جاتے ہیں۔دونوں امیگریشن ماہرین نے چھ سو چون تھائی مزدور خواتین سے انٹرویو کیا۔سب نے بتایا کہ ان کا جنسی استحصال بھی ہوتا ہے اور قانونی چارہ جوئی کی کوشش کا مطلب نوکری سے برخاستگی اور اسرائیل بدری ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے بعد اور اس فوج کی کے لیے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان