ٹرمپ کے سابق فوجی ڈیموکریٹس پر سنگین الزامات، غیر قانونی احکامات سے متعلق ویڈیو پر شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو چند ڈیموکریٹ قانون سازوں کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
یہ ردعمل اس ویڈیو کے بعد سامنے آیا جس میں سابق فوجی پس منظر رکھنے والے ڈیموکریٹس نے فوج اور انٹیلیجنس کمیونٹی کے اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ ان کا حلف آئین سے وفاداری کا ہے اور انہیں کسی بھی غیر قانونی حکم کو ماننے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرانسپرینسی ایکٹ پر دستخط، کیا ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے؟
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر متعدد بیانات میں ان ڈیموکریٹس کے اقدام کو ریاست کے خلاف بغاوت قرار دیا اور ان پر قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق ایسی باتیں ’ملک کے لیے خطرناک‘ ہیں اور ان کے خلاف ’مثال قائم‘ ہونی چاہیے۔
یہ ویڈیو 6 ڈیموکریٹ قانون سازوں نے جاری کی جن میں سے ہر ایک فوج یا انٹیلیجنس میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے ماحول میں ضروری ہے کہ فوجی اہلکار آئین کی پاسداری کریں۔
سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ غیر قانونی احکامات کو تسلیم کرنا ضروری نہیں۔ نمائندہ کرس ڈی لوزیو نے کہا کہ ایسے احکامات کو ماننے سے انکار کرنا فوجی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
سابق سی آئی اے افسر اور قانون ساز ایلیسا سلوتکن نے کہا کہ ملک کی حفاظت آئینی اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کن احکامات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات طے، نیویارک کے مسائل زیر بحث آنے کا امکان
ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے بعض ڈیموکریٹ شہروں میں امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کے لیے نیشنل گارڈ تعینات کیے ہیں۔
اس کے علاوہ وینزویلا کے قریب امریکی فوجی نقل و حرکت اور سمندری کارروائیوں میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر بھی بین الاقوامی تنقید جاری ہے۔
ٹرمپ کے بیانات پر ڈیموکریٹس نے سخت ردعمل دیا۔ سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ انہوں نے ملک کے لیے جنگ میں حصہ لیا مگر کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ایک صدر ان کی موت کا مطالبہ کرے گا۔ سینیٹر ٹِم کین نے ٹرمپ کے رویے کو خطرناک اور غیر ذمہ دار قرار دیا۔
آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والی تنظیم پین امریکا نے بھی ٹرمپ کے الفاظ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا بیانیہ تناؤ اور ممکنہ تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا مقصد ان قانون سازوں کے خلاف موت کی سزا کی حمایت کرنا نہیں تھا بلکہ وہ فوجی نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دے رہے تھے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس اپنے بیانیے سے فوج میں کمانڈ کے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی اظہار امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ڈٰیموکریٹ صدر ٹرمپ وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آزادی اظہار امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ڈ یموکریٹ وینزویلا نے کہا کہ ٹرمپ کے اور ان کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔