سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو چند ڈیموکریٹ قانون سازوں کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔

یہ ردعمل اس ویڈیو کے بعد سامنے آیا جس میں سابق فوجی پس منظر رکھنے والے ڈیموکریٹس نے فوج اور انٹیلیجنس کمیونٹی کے اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ ان کا حلف آئین سے وفاداری کا ہے اور انہیں کسی بھی غیر قانونی حکم کو ماننے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرانسپرینسی ایکٹ پر دستخط، کیا ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے؟

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر متعدد بیانات میں ان ڈیموکریٹس کے اقدام کو ریاست کے خلاف بغاوت قرار دیا اور ان پر قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے مطابق ایسی باتیں ’ملک کے لیے خطرناک‘ ہیں اور ان کے خلاف ’مثال قائم‘ ہونی چاہیے۔

یہ ویڈیو 6 ڈیموکریٹ قانون سازوں نے جاری کی جن میں سے ہر ایک فوج یا انٹیلیجنس میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے ماحول میں ضروری ہے کہ فوجی اہلکار آئین کی پاسداری کریں۔

سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ غیر قانونی احکامات کو تسلیم کرنا ضروری نہیں۔ نمائندہ کرس ڈی لوزیو نے کہا کہ ایسے احکامات کو ماننے سے انکار کرنا فوجی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

سابق سی آئی اے افسر اور قانون ساز ایلیسا سلوتکن نے کہا کہ ملک کی حفاظت آئینی اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کن احکامات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات طے، نیویارک کے مسائل زیر بحث آنے کا امکان

ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے بعض ڈیموکریٹ شہروں میں امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کے لیے نیشنل گارڈ تعینات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ وینزویلا کے قریب امریکی فوجی نقل و حرکت اور سمندری کارروائیوں میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر بھی بین الاقوامی تنقید جاری ہے۔

ٹرمپ کے بیانات پر ڈیموکریٹس نے سخت ردعمل دیا۔ سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ انہوں نے ملک کے لیے جنگ میں حصہ لیا مگر کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ایک صدر ان کی موت کا مطالبہ کرے گا۔ سینیٹر ٹِم کین نے ٹرمپ کے رویے کو خطرناک اور غیر ذمہ دار قرار دیا۔

آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والی تنظیم پین امریکا نے بھی ٹرمپ کے الفاظ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا بیانیہ تناؤ اور ممکنہ تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا مقصد ان قانون سازوں کے خلاف موت کی سزا کی حمایت کرنا نہیں تھا بلکہ وہ فوجی نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دے رہے تھے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس اپنے بیانیے سے فوج میں کمانڈ کے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی اظہار امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ڈٰیموکریٹ صدر ٹرمپ وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آزادی اظہار امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ڈ یموکریٹ وینزویلا نے کہا کہ ٹرمپ کے اور ان کے لیے

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے