Jasarat News:
2026-06-03@00:43:00 GMT

’’آئینی‘‘ ججوں کا استعفا

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی آئینی اور عدالتی تاریخ ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عدالت عظمیٰ کے دو معزز جج صاحبان، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ، کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ یہ استعفے محض دو افراد کے ذاتی فیصلے نہیں، بلکہ ملکی تاریخ میں ایک اور سیاہ نشان ہیں۔ ان استعفوں نے ریاست کے تین بنیادی ستونوں، خصوصاً عدلیہ کی آزادی اور آئینی بالادستی کے حوالے سے نہ صرف تشویش کی نئی لہر پیدا کی ہے بلکہ 27 ویں آئینی ترمیم کے سنگین نتائج کو بھی پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کا شمار اْن ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نسبتاً آئین اور قانون کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کیا۔ ان کا استعفا، جسے صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے، اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ عدلیہ کے اندرونی ماحول میں وہ گھٹن بڑھ چکی تھی جس کے ساتھ کام کرنا اب ایک آئینی جج کے لیے ممکن نہیں رہا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں واضح لکھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین ِ پاکستان پر ’’سنگین حملہ‘‘ ہے۔ اْن کے مطابق اس ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا، عدالت عظمیٰ کو تقسیم کر دیا، اور عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب لگائی۔ اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا، وہ اب اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہا۔ یہ دو ججوں کا کہنا نہیں ہے بلکہ ہر محبت وطن کی آواز اور آئینی زوال کا اعلان ہیں۔ اس بحران کی بنیاد وہ متنازع 27 ویں آئینی ترمیم ہے، جس کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے اوپر ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ترمیم نے نہ صرف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے آئینی اختیارات محدود کیے بلکہ عدلیہ کے پورے ڈھانچے کو ایک نئے نظم کا پابند بنا دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق یہ نئی عدالت دراصل ’’سیاسی مصلحت کے تحت وجود میں لائی گئی ہے‘‘۔ انہوں نے اسے عدلیہ کے لیے خطرناک ترین تنزلی قرار دیتے ہوئے واضح لکھا کہ یہ کوئی اصلاح نہیں بلکہ آئینی ڈھانچے کو بگاڑنے کا عمل ہے۔ ان کے مطابق پہلے 26 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کمزور کی گئی، اور اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو تقسیم کر کے حکومتی کنٹرول مضبوط کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ کی آزادی وہ بنیاد ہے جس پر جمہوری معاشرہ قائم رہتا ہے۔ اگر سب سے بڑی عدالت کے اختیارات کسی نئی عدالت کو منتقل کر دیے جائیں، جس کی تشکیل اور حدود کا تعین سیاسی بنیادوں پر کیا جائے، تو یہ طاقت کی توازن کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اسی صورتحال کا سامنا پاکستان اس وقت کر رہا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں اہم الزام عائد کیا کہ عدالت عظمیٰ کی قیادت نے ادارے کے دفاع کے بجائے اپنے عہدے کو ترجیح دی۔ یہ جملہ مورخین کے لیے ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آیا عدلیہ کے سربراہ نے واقعی ادارے کو متحد رکھا یا فیصلوں میں خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت اور ’’متنازع عدالتی قیادت‘‘ نے ترمیم کو قبول کیا۔ اس کے نتیجے میں عدلیہ اندرونی طور پر منقسم ہو کر رہ گئی۔ تاریخ بھی یہی سکھاتی ہے کہ جب کسی ادارے کے اندر اختلاف بڑھ جائے تو بیرونی دباؤ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر واضح کیا تھا کہ اگر عدلیہ متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے شدید متاثر ہوں گے۔ انہوں نے ایگزیکٹو کے ساتھ مشاورت کا مطالبہ بھی کیا، مگر اب حالات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تجاویز نہ صرف نظر انداز کی گئیں بلکہ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ دو سینئر ججوں کو استعفا دینا پڑا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنی قانونی زندگی کے ہر منصب پر ایک ہی وعدہ کیا، آئین ِ پاکستان سے وفاداری۔ لیکن ان کے مطابق اب وہ آئین اپنی اصل شکل میں موجود ہی نہیں رہا۔ یہ ایک انتہائی سخت اور تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو کچھ آئین کے نام پر باقی رہ گیا ہے، وہ صرف ایک سایہ ہے، جو آئینی روح سے خالی ہے۔ ان کے استعفے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کہا: ’’یہ لباس محض زیبائش نہیں، بلکہ ایک مقدس امانت ہے، اسے پہنے رہنا جبکہ آئین کا تحفظ ممکن نہ ہو، حلف سے بے وفائی کے مترادف ہوتا‘‘۔ عدلیہ کے کردار، اس کے وقار اور اس کی آئینی حیثیت کے بارے میں اس سے زیادہ دردناک تنقید شاید ہی ہو سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ نئی آئینی عدالت کے قیام سے زیر ِ التوا مقدمات کا بوجھ کم ہوگا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے درست نشاندہی کی کہ زیر التوا مقدمات زیادہ تر ضلعی عدالتوں میں ہیں، نہ کہ عدالت عظمیٰ میں۔ اس لیے یہ دلیل حقیقت سے زیادہ سیاسی لگتی ہے۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسے کئی اقدامات کیے گئے جو اصلاحات کے نام پر لائے گئے، مگر وقت نے انہیں ٹوٹ پھوٹ، خلفشار اور اداروں کی کمزوری کا سبب ثابت کیا۔ یہ ترمیم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔ ان استعفوں نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا پاکستان میں عدلیہ کی آزادی برقرار رہے گی؟ کیا حکومتی اثر و رسوخ بڑھانے کا سلسلہ مزید آگے بڑھے گا؟ کیا عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر اب نئی عدالت کا سایہ پڑے گا؟ کیا یہ اقدامات ملک کے اندرونی امن، سیاسی استحکام اور جمہوری روایت کو مزید شدید نقصان پہنچائیں گے؟ بدقسمتی سے یہ سوالات محض خدشات نہیں رہے، بلکہ زمینی حقیقت بن رہے ہیں۔ یہ بحران صرف ججوں یا حکومت کا مسئلہ نہیں۔ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ آئین اور عدلیہ معاشرے کے ستون ہیں۔ ان کے بغیر نہ انصاف قائم رہ سکتا ہے، نہ معاشی استحکام، نہ سیاسی ٹھیراؤ اور نہ عوام کا اعتماد۔ اگر عدلیہ تقسیم ہو جائے، اس پر سیاسی اثر بڑھ جائے، اور حکومتیں آئینی بدنظمی کو معمول بنا لیں، تو پھر نظامِ عدل محض کاغذی بن جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ یہ استعفے پاکستان کی آئینی تاریخ کے سب سے اہم واقعات میں شمار ہوں گے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں اصول، حلف اور آئین کے درمیان ایک فیصلہ کن جدوجہد جاری ہے۔ عدلیہ کی آزادی کی جنگ اب صرف ججوں کی ذمے داری نہیں رہی، یہ قوم، پارلیمان، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کا فرض بن چکی ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ ایسے ہی موڑوں پر قوموں کی اصل سمت کا تعین کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا: ’’تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تاریخی امتحان میں کس صف میں کھڑا ہوگا، خاموشی کی صف میں یا آئین کی سربلندی کے قافلے میں اور ہماری سیاسی جماعتیں مستقبل میں کس مقام اور سوال کے ساتھ کھڑی ہوں گی؟

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس اطہر من اللہ عدلیہ کی ا زادی عدالت عظمی کے مطابق انہوں نے عدلیہ کے لکھا کہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور