Jasarat News:
2026-07-24@04:29:34 GMT

’’آئینی‘‘ ججوں کا استعفا

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251116-03-2

 

پاکستان کی آئینی اور عدالتی تاریخ ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عدالت عظمیٰ کے دو معزز جج صاحبان، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ، کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ یہ استعفے محض دو افراد کے ذاتی فیصلے نہیں، بلکہ ملکی تاریخ میں ایک اور سیاہ نشان ہیں۔ ان استعفوں نے ریاست کے تین بنیادی ستونوں، خصوصاً عدلیہ کی آزادی اور آئینی بالادستی کے حوالے سے نہ صرف تشویش کی نئی لہر پیدا کی ہے بلکہ 27 ویں آئینی ترمیم کے سنگین نتائج کو بھی پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کا شمار اْن ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نسبتاً آئین اور قانون کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کیا۔ ان کا استعفا، جسے صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے، اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ عدلیہ کے اندرونی ماحول میں وہ گھٹن بڑھ چکی تھی جس کے ساتھ کام کرنا اب ایک آئینی جج کے لیے ممکن نہیں رہا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں واضح لکھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین ِ پاکستان پر ’’سنگین حملہ‘‘ ہے۔ اْن کے مطابق اس ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا، عدالت عظمیٰ کو تقسیم کر دیا، اور عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب لگائی۔ اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا، وہ اب اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہا۔ یہ دو ججوں کا کہنا نہیں ہے بلکہ ہر محبت وطن کی آواز اور آئینی زوال کا اعلان ہیں۔ اس بحران کی بنیاد وہ متنازع 27 ویں آئینی ترمیم ہے، جس کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے اوپر ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ترمیم نے نہ صرف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے آئینی اختیارات محدود کیے بلکہ عدلیہ کے پورے ڈھانچے کو ایک نئے نظم کا پابند بنا دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق یہ نئی عدالت دراصل ’’سیاسی مصلحت کے تحت وجود میں لائی گئی ہے‘‘۔ انہوں نے اسے عدلیہ کے لیے خطرناک ترین تنزلی قرار دیتے ہوئے واضح لکھا کہ یہ کوئی اصلاح نہیں بلکہ آئینی ڈھانچے کو بگاڑنے کا عمل ہے۔ ان کے مطابق پہلے 26 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کمزور کی گئی، اور اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو تقسیم کر کے حکومتی کنٹرول مضبوط کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ کی آزادی وہ بنیاد ہے جس پر جمہوری معاشرہ قائم رہتا ہے۔ اگر سب سے بڑی عدالت کے اختیارات کسی نئی عدالت کو منتقل کر دیے جائیں، جس کی تشکیل اور حدود کا تعین سیاسی بنیادوں پر کیا جائے، تو یہ طاقت کی توازن کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اسی صورتحال کا سامنا پاکستان اس وقت کر رہا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں اہم الزام عائد کیا کہ عدالت عظمیٰ کی قیادت نے ادارے کے دفاع کے بجائے اپنے عہدے کو ترجیح دی۔ یہ جملہ مورخین کے لیے ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آیا عدلیہ کے سربراہ نے واقعی ادارے کو متحد رکھا یا فیصلوں میں خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت اور ’’متنازع عدالتی قیادت‘‘ نے ترمیم کو قبول کیا۔ اس کے نتیجے میں عدلیہ اندرونی طور پر منقسم ہو کر رہ گئی۔ تاریخ بھی یہی سکھاتی ہے کہ جب کسی ادارے کے اندر اختلاف بڑھ جائے تو بیرونی دباؤ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر واضح کیا تھا کہ اگر عدلیہ متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے شدید متاثر ہوں گے۔ انہوں نے ایگزیکٹو کے ساتھ مشاورت کا مطالبہ بھی کیا، مگر اب حالات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تجاویز نہ صرف نظر انداز کی گئیں بلکہ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ دو سینئر ججوں کو استعفا دینا پڑا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنی قانونی زندگی کے ہر منصب پر ایک ہی وعدہ کیا، آئین ِ پاکستان سے وفاداری۔ لیکن ان کے مطابق اب وہ آئین اپنی اصل شکل میں موجود ہی نہیں رہا۔ یہ ایک انتہائی سخت اور تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو کچھ آئین کے نام پر باقی رہ گیا ہے، وہ صرف ایک سایہ ہے، جو آئینی روح سے خالی ہے۔ ان کے استعفے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کہا: ’’یہ لباس محض زیبائش نہیں، بلکہ ایک مقدس امانت ہے، اسے پہنے رہنا جبکہ آئین کا تحفظ ممکن نہ ہو، حلف سے بے وفائی کے مترادف ہوتا‘‘۔ عدلیہ کے کردار، اس کے وقار اور اس کی آئینی حیثیت کے بارے میں اس سے زیادہ دردناک تنقید شاید ہی ہو سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ نئی آئینی عدالت کے قیام سے زیر ِ التوا مقدمات کا بوجھ کم ہوگا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے درست نشاندہی کی کہ زیر التوا مقدمات زیادہ تر ضلعی عدالتوں میں ہیں، نہ کہ عدالت عظمیٰ میں۔ اس لیے یہ دلیل حقیقت سے زیادہ سیاسی لگتی ہے۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسے کئی اقدامات کیے گئے جو اصلاحات کے نام پر لائے گئے، مگر وقت نے انہیں ٹوٹ پھوٹ، خلفشار اور اداروں کی کمزوری کا سبب ثابت کیا۔ یہ ترمیم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔ ان استعفوں نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا پاکستان میں عدلیہ کی آزادی برقرار رہے گی؟ کیا حکومتی اثر و رسوخ بڑھانے کا سلسلہ مزید آگے بڑھے گا؟ کیا عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر اب نئی عدالت کا سایہ پڑے گا؟ کیا یہ اقدامات ملک کے اندرونی امن، سیاسی استحکام اور جمہوری روایت کو مزید شدید نقصان پہنچائیں گے؟ بدقسمتی سے یہ سوالات محض خدشات نہیں رہے، بلکہ زمینی حقیقت بن رہے ہیں۔ یہ بحران صرف ججوں یا حکومت کا مسئلہ نہیں۔ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ آئین اور عدلیہ معاشرے کے ستون ہیں۔ ان کے بغیر نہ انصاف قائم رہ سکتا ہے، نہ معاشی استحکام، نہ سیاسی ٹھیراؤ اور نہ عوام کا اعتماد۔ اگر عدلیہ تقسیم ہو جائے، اس پر سیاسی اثر بڑھ جائے، اور حکومتیں آئینی بدنظمی کو معمول بنا لیں، تو پھر نظامِ عدل محض کاغذی بن جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ یہ استعفے پاکستان کی آئینی تاریخ کے سب سے اہم واقعات میں شمار ہوں گے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں اصول، حلف اور آئین کے درمیان ایک فیصلہ کن جدوجہد جاری ہے۔ عدلیہ کی آزادی کی جنگ اب صرف ججوں کی ذمے داری نہیں رہی، یہ قوم، پارلیمان، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کا فرض بن چکی ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ ایسے ہی موڑوں پر قوموں کی اصل سمت کا تعین کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا: ’’تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تاریخی امتحان میں کس صف میں کھڑا ہوگا، خاموشی کی صف میں یا آئین کی سربلندی کے قافلے میں اور ہماری سیاسی جماعتیں مستقبل میں کس مقام اور سوال کے ساتھ کھڑی ہوں گی؟

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس اطہر من اللہ عدلیہ کی ا زادی عدالت عظمی کے مطابق انہوں نے عدلیہ کے لکھا کہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم