کراچی؛ نشے میں دھت ڈرائیور نے فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر گاڑی چڑھا دی، 2 جاں بحق، 4 شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کراچی:
نشے میں دھت ڈرائیور نے فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کلفٹن کے علاقے میں عبداللہ شاہ غازی مزار کے قریب تیز رفتار گاڑی ڈرائیورسے بے قابوہونے کے بعدایک موٹر سائیکل سوار کو روندتی ہوئی فٹ پاتھ پرسوئے افراد پر چڑھ گئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 افراد شدید زخمی ہو گئے۔
زخمیوں میں خود گاڑی کا ڈرائیوراوراس کا ساتھی بھی شامل ہے ۔ پولیس کا دعویٰ ہےکہ گاڑی کا ڈرائیورنشے میں دھت تھا۔ پولیس نے زخمی ڈرائیورکوحراست میں لے کر حادثے کی تفتیش شروع کردی ہے۔
پیرکی صبح بوٹ بیسن تھانے کی حدود کلفٹن بلاک 4 عبداللہ شاہ غازی مزار آئی کون ٹاور کے قریب انتہائی تیزرفتارسفید رنگ کی ٹویوٹا کرولا گاڑی رجسٹریشن نمبربی آر ٹی 926 ڈرائیورسے بےقابوہونے کے بعد ایک موٹر سائیکل سوار کو روندتی ہوئی فٹ پاتھ پرسوئے افراد پر چڑھ گئی۔ حادثے میں گاڑی اور ایک موٹر سائیکل مکمل تباہ ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کریم اورشبیر احمد کے نام سے کی گئی جب کہ زخمیوں میں مدثر ولد غلام یاسین ، شکیل ولد مزمل، طاہر علی ولد خدا بخش اور احد شامل ہیں ۔
ایس ایچ او بوٹ بیسن راشد علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد اور ایک زخمی شخص فٹ پاتھ پر سو رہے تھے۔ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ گاڑی میں 2 افراد احد اورطاہر علی سوار تھے۔ گاڑی کا ڈرائیو احد نشے میں دھت تھا جب کہ گاڑی طاہر علی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
انہوں نے مزید بتایاکہ گاڑی کی رفتار بہت زیادہ تھی، جس کے باعث گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہونے کے بعد ایک موٹر سائیکل سوار کو روندتی ہوئی فٹ پاتھ پرسوئے ہوئے افراد پرچڑھ گئی۔ حادثے میں گاڑی میں سوار افراد بھی شدید زخمی ہوئے ۔
حادثے میں موٹر سائیکل سوارکا اب تک کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے اور پولیس اسے تلاش کر ہی ہے جب کہ پولیس حادثے سےمتعلق مزید معلومات بھی اکٹھا کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سوار ایک موٹر سائیکل فٹ پاتھ پر افراد پر میں دھت
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔