شردھا اور نورا کا منشیات سنڈیکیٹ میں نام: داؤد ابراہیم سے تعلق جوڑنے پر بھارتی رقاصہ برہم
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
ممبئی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس سیل (اے این سی) نے ایک وسیع منشیات نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے، جو مبینہ طور پر زیر زمین جرائم پیشہ داؤد ابراہیم سے جڑا ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تحقیقات خاموشی سے چل رہی تھیں، لیکن اب فلم اور موسیقی کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے، اور رپورٹس میں کچھ بڑے نام جیسے شردھا کپور اور نورا فتحی کا تعلق اس اسکینڈل سے بتایا جا رہا ہے۔
بھارتی رقاصہ اور اداکارہ نورا فتحی نے انسٹاگرام اسٹوریز پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا: ”براہِ مہربانی جان لیں کہ میں پارٹیوں میں نہیں جاتی… میں مسلسل پروازوں میں مصروف رہتی ہوں… میں محنتی ہوں اور میری ذاتی زندگی بہت محدود ہے… براہِ کرم میرے نام اور تصویر کو ایسے معاملات میں استعمال نہ کریں جن سے میرا کوئی تعلق نہیں! اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ براہِ مہربانی احترام کریں۔“
بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ خبریں خاص طور پر اس وقت لوگوں کی توجہ میں آئیں جب معلوم ہوا کہ شردھا کپور نے 2017 میں داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کا کردار نبھایا تھا، جبکہ ان کے بھائی سدھارتھ کپور نے داؤد کا کردار ادا کیا تھا۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مبینہ منشیات نیٹ ورک دبئی میں کام کرنے والے مطلوبہ منشیات کے سلطان سلیم دولہ کے زیر انتظام تھا، جو داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، سلیم دولہ نے میفڈرون (M-Cat یا Meow Meow) بھارت کے متعدد صوبوں میں فراہم کی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسمگلنگ کی۔
یہ نیٹ ورک اس وقت سامنے آیا جب سلیم دولہ کے بیٹے طاہر دولہ کو اگست میں متحدہ عرب امارات سے بھارت منتقل کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران طاہر نے اہم معلومات فراہم کیں۔ طاہر کے مطابق، بالی ووڈ کے اداکار، ماڈلز، ریپرز، فلم ساز اور حتیٰ کہ داؤد ابراہیم کے رشتہ دار بھی ان منشیات کی پارٹیوں میں شریک ہوتے تھے، جو بھارت اور بیرون ملک منعقد کی جاتی تھیں۔
رپورٹس کاکہنا ہے کہ طاہر نے صرف پارٹیوں کا انتظام نہیں کیا بلکہ ان تقریبات میں منشیات کی سپلائی بھی کی۔ ملزم نے پہلے بھی ملک اور بیرون ملک علیشا پارکر، نورا فتحی، شردھا کپور اور ان کے بھائی سدھارتھ کپور، ذیشان صدیقی، اوری (عرف اورہان)، عباس-مستان، لوکا اور دیگر کئی افراد کے ساتھ منشیات کی پارٹیوں کا اہتمام کیا، خود بھی ان میں شریک ہوئے اور انہیں اور دیگر افراد کو منشیات فراہم کیں۔
یہ انکشافات نہ صرف بالی ووڈ بلکہ پوری تفریحی دنیا میں سنسنی پیدا کر رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ نیٹ ورک اور شامل افراد کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید شخصیات کے نام سامنے آنے کا امکان ہے۔ یہ کیس اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے اور قانونی کارروائی کے نتائج آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: داؤد ابراہیم نیٹ ورک
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔