اسلام آباد ، وانا دہشتگردحملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے ہے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش اور قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کرنے والوں کا افغانستان سے تعلق ہے۔
سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دونوں واقعات میں ملوث افراد تک پہنچ چکے ہیں، دونوں واقعات میں ملوث افراد افغانی تھے۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ (افغانستان سے) ہم پر بمباری کررہے ہیں اور ہم جا کر ان سے کہیں کہ ہم سے مذاکرات کریں یہ تو نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے سری لنکا کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سری لنکن وزیر دفاع سے بات کی اور کھلاڑیوں کی سکیورٹی سے متعلق یقین دہانی کروائی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں 11 نومبر کو میڈیا کو بتایا تھا کہ وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے تمام افراد کو جان سے مار دیا گیا ہے جبکہ کالج میں موجود تمام طلبہ اور عملہ محفوظ ہے۔
سینیٹ کے اجلاس سے خطاب میں محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کو بار بار کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو ختم کیا جائے لیکن باز وہ نہیں آ رہے ہیں، اس حکومت کا سب سے بڑا ہدف پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو واپس ان کے وطن بھیجنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے اسلام ا باد نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :