سپریم کورٹ کے ججوں کے استعفے پر پی ٹی آئی رہنما کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن اسد قیصر سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفی دے دیا ہے اور میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جتنی وکلا تنظیمیں اور مزدور تنظیمیں ہیں ان کو ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔
اسد قیصر نے کہا کہ کل دو بجے ہمارا اجلاس ہوگا جس میں اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا اور حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا قانون میں ترمیم اس طرح ہوتی ہے، ایک بار ترمیم کر کے پھر کہنا کہ یہ ایسا نہیں ویسا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جو کہتا ہے ووٹ کو عزت دو اور وہ عام طور پر نہیں آتے ہیں لیکن کل آگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔