کیا عدلیہ کو بھی تاحیات استثنی حاصل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
صدر پاکستان اور فیلڈ مارشل کو دیا جانے والا استثناء تو ہر طرف زیر بحث ہے، سوال یہ ہے، کیا عدلیہ کو حاصل غیر تحریری تاحیات استثناء پر بھی کبھی کوئی بات ہو گی؟
سیاست دان تو جنم جنم سے قانون کا سامنا کر رہے ہیں، وزیر اعظم کسی بھی جماعت کا ہو، ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد اس کا ’نیکسٹ سٹاپ اڈیالہ‘ ہی ہوتا ہے۔
اسی طرح جرنیل بھی کسی نہ کسی درجے میں قانون کا سامنا کرتے ہی ہیں۔ ایک مثال پرویز مشرف ہیں اور دوسری فیض حمید ہیں ، بیچ میں میجر جنرل ظہیر الااسلام عباسی سے لے کر ایڈمرل منصور منصور الحق تک کئی نام پیش کیے جا سکتے ہیں جنہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
ملک میں صرف ایک طبقہ ایسا ہے جس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ہو یا بائیں ہاتھ میں، قانون کی جرات نہیں کہ وہ اس کی دہلیز پر دستک دے سکے۔ یہ ہماری عدلیہ ہے۔ ایک طالب علم کے طور پر سوال وہی ہے کہ کیا جج حضرات کو بھی تاحیات استثنا حاصل ہے؟
اس بات کو چند سادہ مثالوں سے سمجھتے ہیں۔
پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت آئین شکنی کا مقدمہ قائم ہوا اور پھر سزا سنا دی گئی لیکن آرٹیکل 6 میں تو یہ بھی لکھا ہوا صرف آئین شکنی کا ارتکاب کرنے والے کو ہی سزا نہیں ہو گی بلکہ جو اس میں مدد دے، ساتھ دے، اکسائے یا ترغیب دے اس کو بھی سزا ہو گی۔ اب سوال یہ ہے کہ پرویز مشرف کو تو سزا سنا دی گئی لیکن سپریم کورٹ کے ان ججوں کا کیا ہوا جنہوں نے پرویز مشرف کے اقدام کی نہ صرف توثیق کی بلکہ انہیں آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔ کیا یہ بھی برابر کے مجرم نہیں تھے؟
آئین میں ترمیم کا ایک ہی طریق کار ہے اور وہ ہے دو تہائی اکثریت کے ساتھ پارلیمان کا فیصلہ، آئین میں تبدیلی کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی نہیں بھلے فل بنچ ہی بیٹھ جائے۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے مشرف کو آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ قانون نے آج تک ان جج صاحبان سے کیوں نہیں ہوچھا کہ جناب آپ خود آئین شکنی کے مرتکب ہوئے، ذرا کٹہرے میں تشریف لائیے۔
پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 6 میں ایک ترمیم کی اور لکھا کہ سنگین غداری کے کام کو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اس ترمیم کا اطلاق آنے والے وقت میں ہو گا لیکن ایسا نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل 12 کی ذیلی دفعہ میں واضح ہے کہ آرٹیکل 2 میں جب بھی کوئی ترمیم ہو گی یا اس کا اطلاق ہو گا تو یہ 23 مارچ 1956 سے ہو گا۔ یعنی اس کا رٹراسپکٹو ایفیکٹ ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 23 مارچ 1956 سے اب تک عدالتوں نے جتنے مارشل لاؤں کی توثیق دی وہ جرم ہے۔ پارلیمان کی توثیق کے باوجود جرم ہے۔ اس جرم پر قانون کیوں نہیں لاگو ہو رہا؟ اس سوال پر سوچتے رہیے اور محسوس کیجیے کہ یہ غیر تحریری استثنا کتنا طاقت ور ہے۔
پاکستان میں نظریہ ضرورت متعارف کرنے والی بھی سپریم کورٹ ٰ (فیڈرل کورٹ ) تھی۔ چیف جسٹس منیر نے نہ صرف غیر آئینی اقدام کی توثیق کی بلکہ فیصلے میں لکھا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ لکھا کہ پاکستان کی پارلیمان کی برطانوی سرکار کے علامتی نمائندے یعنی گورنر جنرل غلام محمد کے سامنے کوئی حیثیت نہیں اور جب تک وہ توثیق نہ کر دیں پارلیمان کے بنائے قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ ( دل چسپ بات یہ ہے کہ جسٹس منیر کا یہ شرمناک فیصلہ قائد اعظم کی قائم کر دہ پارلیمانی روایت سے بھی انحراف تھا ) ۔ سوال یہ ہے کہ آج تک جسٹس منیر کے خلاف کوئی علامتی کارروائی ہو سکی؟ کارروائی تو دور کی بات ہے ان صاحب اور مارشل لاؤں کی توثیق کرنے والے دیگر تمام مائی لارڈز کی تصاویر سپریم کورٹ میں کورٹ روم نمر ون میں آویزاں ہیں۔
بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔ یہ سوال آج تک موجود ہے کہ بھٹو کو پھانسی دینے یعنی عدالتی قتل کرنے والوں کے خلاف کوئی علامتی کارروائی آج تک کیوں نہ سکی؟ ان کی تصاویر ہی کم از کم کورٹ روم نمبر ون سے ہٹا دی جاتیں۔
کرپشن کے مقدمات میں سب کو سزا ہو سکتی ہے۔ یہ اہتمام مگر صرف عدلیہ کے لیے ہے کہ عدالت کے کسی معزز جج کی کرپشن، بد عنوانی کے ثبوت آ جائیں تو کارروائی سے پہلے انہیں یہ آپشن دیا جاتا ہے کہ صاحب آپ چاہیں تو کارروائی کا سامنا کریں اور چاہیں تو استعفی دے کر گھر چلے جائیں، پنشن سے لطف اندوز ہوں اور مراعات سے جی بہلائیں۔ الزام جب نوشتہ دیوار بن جائے تو کتنے ہی جج استعفی دے کر گھر چلے جاتے ہیں اور غریب قوم انہیں ساری عمر پنشن اور مراعات دیتی رہتی ہے۔ کوئی ہے جو سوال کرے کہ کیوں؟
ہر شعبے میں سوال اٹھتے ہیں، ہر ایک سے کسی نہ درجے میں سوال ہوتا ہے، یہ صرف عدلیہ ہے جس کی کارکردگی کو زیر بحث لانے کی جرات خود پارلیمان میں بھی نہیں ہوتی۔ اس کی کارکردگی اور مراعات کے تناسب پر بھی کوئی انگلی نہیں اٹھتی۔ ریکو ڈک کا ایک کیس فیصلہ پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں پڑتا ہے لیکن کوئی پلٹ کر نہیں پوچھتا۔
آئین میں لکھا ہے کوئی بھی آئینی ترمیم کسی بھی بنیاد پر کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی لیکن یہاں ہو جاتی ہے اور پارلیمان کو اس بند گلی میں لایا جاتا ہے جہاں یا تو ساری ترمیم اڑا دی جائے گی یا ججوں کی تعیناتی کے چیف جسٹس کے اختیارات کو نہ چھیڑا جائے۔ ذرا یاد تو کیجیے افتخار چودھری صاحب کے دور میں 18 ویں ترمیم کے وقت پارلیمان کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا؟
لیکن ہم دیکھتے ہیں عدالتیں آئینی پابندی کے باوجود آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سن لیتی ہیں، آئین کی تشریح کے نام پر آئین کو ری رائٹ کر دیا جاتا ہے لیکن نہ کسی حکومت میں ان کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی جرات ہوتی ہے نہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی۔
کرکٹ بورڈ سے وی آئی پی پاس مانگ لیے جاتے ہیں تو کبھی ایئر پورٹ اتھارٹیز کو پروٹوکول کے لیے خط جاتے ہیں لیکن آج تک کوئی نہیں پوچھ پایا کہ کیا یہ سب کچھ عدالت کے لیے طے کردہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں؟
اراکین پارلیمان کی کارکردگی کو عوام جانچتے ہیں اور قانون تو اکثر ہی جانچتا رہتا ہے، افسران سول کے ہوں یا ملٹری کے ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی جانچنے کا باقاعدہ میکنزم ہے لیکن عدلیہ کے لیے ایسا کچھ نہیں۔ کوئی ایسا میکنزم نہیں جو پرکھ سکے کہ کس جج نے کتنے عرصے میں کتنے فیصلے کیے اور ان میں سے کتنے فیصلے آگے چل کر اپیل میں کالعدم ہو گئے اور کس نے سماعت اوسطاً کتنے عرصے میں مکمل کی اور کس نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ لکھنے میں 223 دن لگا دیے۔
یہاں مکمل استثنا کی کیفیت ہے اور تاحیات ہے۔ اس پر اضافی لطف یہ کہ غیر تحریری ہے اس لیے کہیں زیر بحث بھی نہیں ہے۔ بیچ میں کہیں اصلاح احوال کی صورت پیدا ہونے لگے تو بار ایسوسی ایشنز کے ہمارے پیارے پیارے دوست عہدیداران میدان میں آجاتے ہیں کہ خبردار ! عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے۔ ان کے خیال میں اسلام آباد کی پولن الرجی کی طرح یہ بھی ایک تاحیات قسم کا خطرہ ہے۔
یہاں آ کر مجھے نو آبادیاتی دور کے پینڈرل مون یادآ جاتے ہیں لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کیوں یاد آ جاتے ہیں تو میں یہ نہیں بتا پاؤں گا۔ اس کے لیے آپ کو ان کی کتاب ’سٹرینجر ان انڈیا‘ پڑھنا پڑے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کا سامنا کر سپریم کورٹ پرویز مشرف سوال یہ ہے کی توثیق جاتے ہیں ترمیم کا یہ ہے کہ آرٹیکل 6 ہیں اور کے خلاف نہیں ہو ہیں تو کو بھی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔