WE News:
2026-07-24@04:59:32 GMT

کیا عدلیہ کو بھی تاحیات استثنی حاصل ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

صدر پاکستان اور فیلڈ مارشل کو دیا جانے والا استثناء تو ہر طرف  زیر بحث ہے، سوال یہ ہے، کیا عدلیہ کو حاصل غیر تحریری تاحیات استثناء پر بھی کبھی کوئی بات ہو گی؟

سیاست دان تو جنم جنم سے قانون کا سامنا کر رہے ہیں، وزیر اعظم کسی بھی جماعت کا ہو، ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد اس کا ’نیکسٹ سٹاپ اڈیالہ‘  ہی ہوتا ہے۔

 اسی طرح جرنیل بھی کسی نہ کسی درجے میں قانون کا سامنا کرتے ہی ہیں۔ ایک مثال پرویز مشرف ہیں اور دوسری فیض حمید ہیں ، بیچ میں میجر جنرل ظہیر الااسلام عباسی سے لے کر ایڈمرل منصور منصور الحق تک کئی نام پیش کیے جا سکتے ہیں جنہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

 ملک میں صرف ایک طبقہ ایسا ہے جس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ہو یا بائیں ہاتھ میں، قانون کی جرات نہیں کہ وہ اس کی دہلیز پر دستک دے سکے۔ یہ ہماری عدلیہ  ہے۔ ایک طالب علم کے طور پر سوال وہی ہے کہ کیا جج حضرات کو بھی تاحیات استثنا حاصل ہے؟

اس بات کو چند سادہ مثالوں سے سمجھتے ہیں۔

پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت  آئین شکنی کا مقدمہ قائم ہوا اور پھر سزا سنا دی گئی  لیکن آرٹیکل 6 میں تو یہ بھی لکھا ہوا صرف آئین شکنی کا ارتکاب کرنے والے کو ہی سزا نہیں ہو گی بلکہ جو اس میں مدد دے، ساتھ دے، اکسائے یا ترغیب دے اس کو بھی سزا ہو گی۔ اب سوال یہ ہے کہ پرویز مشرف کو تو سزا سنا دی گئی لیکن سپریم کورٹ کے ان ججوں کا کیا ہوا جنہوں نے پرویز مشرف کے اقدام کی نہ صرف توثیق کی بلکہ انہیں آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔ کیا یہ بھی برابر کے مجرم نہیں تھے؟

آئین میں ترمیم کا ایک ہی طریق کار ہے اور وہ ہے دو تہائی اکثریت کے ساتھ پارلیمان کا فیصلہ، آئین میں تبدیلی کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی نہیں بھلے فل بنچ ہی بیٹھ جائے۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے مشرف کو آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ قانون نے آج تک ان جج صاحبان سے کیوں نہیں ہوچھا کہ جناب آپ  خود آئین شکنی کے مرتکب ہوئے، ذرا کٹہرے میں تشریف لائیے۔

پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 6 میں ایک ترمیم کی اور لکھا کہ سنگین غداری کے کام کو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اس ترمیم کا اطلاق آنے والے وقت میں ہو گا لیکن ایسا نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل 12 کی ذیلی دفعہ میں واضح ہے کہ آرٹیکل 2 میں جب بھی کوئی ترمیم ہو گی یا اس کا اطلاق ہو گا تو یہ 23 مارچ 1956 سے ہو گا۔ یعنی اس کا رٹراسپکٹو ایفیکٹ ہو گا۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ 23 مارچ 1956 سے اب تک عدالتوں نے جتنے مارشل لاؤں کی توثیق دی وہ جرم ہے۔  پارلیمان کی توثیق کے باوجود جرم ہے۔ اس جرم پر قانون کیوں نہیں لاگو ہو رہا؟ اس سوال پر سوچتے رہیے اور محسوس کیجیے کہ یہ غیر تحریری استثنا کتنا طاقت ور ہے۔

پاکستان میں نظریہ ضرورت متعارف کرنے والی بھی سپریم کورٹ ٰ (فیڈرل کورٹ ) تھی۔ چیف جسٹس منیر نے نہ صرف غیر آئینی اقدام کی توثیق کی بلکہ فیصلے میں لکھا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ لکھا کہ پاکستان کی پارلیمان کی برطانوی سرکار کے علامتی نمائندے یعنی گورنر جنرل غلام محمد  کے سامنے کوئی حیثیت نہیں اور جب تک وہ توثیق نہ کر دیں پارلیمان کے بنائے قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ ( دل چسپ بات یہ ہے کہ جسٹس منیر کا یہ شرمناک فیصلہ  قائد اعظم کی قائم کر دہ پارلیمانی روایت سے  بھی انحراف تھا ) ۔  سوال یہ ہے کہ آج تک جسٹس منیر کے خلاف کوئی علامتی کارروائی ہو سکی؟ کارروائی تو دور کی بات ہے ان صاحب اور مارشل لاؤں کی توثیق کرنے والے دیگر تمام مائی لارڈز کی تصاویر سپریم کورٹ میں کورٹ روم نمر ون میں آویزاں ہیں۔

بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔ یہ سوال آج تک موجود ہے کہ بھٹو کو پھانسی دینے یعنی عدالتی قتل کرنے والوں کے خلاف کوئی علامتی کارروائی آج تک کیوں نہ سکی؟ ان کی تصاویر ہی کم از کم کورٹ روم نمبر ون سے ہٹا دی جاتیں۔

کرپشن کے مقدمات میں سب کو سزا ہو سکتی ہے۔ یہ اہتمام مگر صرف عدلیہ کے لیے ہے کہ عدالت کے کسی معزز جج کی کرپشن، بد عنوانی کے ثبوت آ جائیں تو کارروائی سے پہلے انہیں یہ آپشن دیا جاتا ہے کہ صاحب آپ چاہیں تو کارروائی کا سامنا کریں اور چاہیں تو استعفی دے کر گھر چلے جائیں، پنشن سے لطف اندوز ہوں اور مراعات سے جی بہلائیں۔ الزام جب نوشتہ دیوار بن جائے تو کتنے ہی جج استعفی دے کر گھر چلے جاتے ہیں اور غریب قوم انہیں ساری عمر پنشن اور مراعات دیتی رہتی ہے۔  کوئی ہے جو سوال کرے کہ کیوں؟

ہر شعبے میں سوال اٹھتے ہیں، ہر ایک سے کسی نہ درجے میں سوال ہوتا ہے، یہ صرف عدلیہ ہے جس کی کارکردگی کو زیر بحث لانے کی جرات خود پارلیمان میں بھی نہیں ہوتی۔ اس کی کارکردگی اور مراعات کے تناسب پر بھی کوئی انگلی نہیں اٹھتی۔ ریکو ڈک کا ایک کیس فیصلہ پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں پڑتا ہے لیکن کوئی پلٹ کر نہیں پوچھتا۔

آئین میں لکھا ہے کوئی بھی آئینی ترمیم کسی بھی بنیاد پر کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی لیکن یہاں ہو جاتی ہے اور پارلیمان کو اس بند گلی میں لایا جاتا ہے جہاں یا تو ساری ترمیم اڑا دی جائے گی یا  ججوں کی تعیناتی کے چیف جسٹس کے اختیارات کو نہ چھیڑا جائے۔ ذرا یاد تو کیجیے افتخار چودھری صاحب کے دور میں 18 ویں ترمیم کے وقت پارلیمان کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا؟

لیکن ہم دیکھتے ہیں عدالتیں آئینی پابندی کے باوجود آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سن لیتی ہیں، آئین کی تشریح کے نام پر آئین کو ری رائٹ کر دیا جاتا ہے لیکن نہ کسی حکومت میں ان کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی جرات ہوتی ہے نہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی۔

کرکٹ بورڈ سے وی آئی پی پاس مانگ لیے جاتے ہیں تو کبھی ایئر پورٹ اتھارٹیز کو پروٹوکول کے لیے خط جاتے ہیں لیکن آج تک کوئی نہیں پوچھ پایا کہ کیا یہ سب کچھ عدالت کے لیے طے کردہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں؟

اراکین پارلیمان کی کارکردگی کو عوام جانچتے ہیں اور قانون  تو اکثر ہی جانچتا رہتا ہے، افسران سول کے ہوں یا ملٹری کے ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی جانچنے کا باقاعدہ میکنزم ہے لیکن عدلیہ کے لیے ایسا کچھ نہیں۔ کوئی ایسا میکنزم نہیں جو پرکھ سکے کہ کس جج نے کتنے عرصے میں کتنے فیصلے کیے اور ان میں سے کتنے فیصلے آگے چل کر اپیل میں کالعدم ہو گئے اور کس نے سماعت اوسطاً کتنے عرصے میں مکمل کی اور کس نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ لکھنے میں 223 دن لگا دیے۔

یہاں مکمل استثنا کی کیفیت ہے اور تاحیات ہے۔ اس پر اضافی لطف یہ کہ غیر تحریری ہے اس لیے کہیں زیر بحث بھی نہیں ہے۔  بیچ میں کہیں اصلاح احوال کی صورت پیدا ہونے لگے تو بار ایسوسی ایشنز کے ہمارے پیارے پیارے دوست عہدیداران میدان میں آجاتے ہیں کہ خبردار ! عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے۔ ان کے خیال میں اسلام آباد کی پولن الرجی کی طرح یہ بھی ایک تاحیات قسم کا خطرہ ہے۔

یہاں آ کر مجھے نو آبادیاتی دور کے  پینڈرل مون یادآ جاتے ہیں لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کیوں یاد آ جاتے ہیں تو میں یہ نہیں بتا پاؤں گا۔ اس کے لیے آپ کو ان کی کتاب ’سٹرینجر ان انڈیا‘ پڑھنا پڑے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کا سامنا کر سپریم کورٹ پرویز مشرف سوال یہ ہے کی توثیق جاتے ہیں ترمیم کا یہ ہے کہ آرٹیکل 6 ہیں اور کے خلاف نہیں ہو ہیں تو کو بھی کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن