کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو سامنے لایا جائے گا: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج 12 بجکر 39 منٹ پر خودکش حملہ ہوا جس میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے، خود کش حملہ آور کچہری کے اندر جانے کی کوشش میں تھا۔
موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا، پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے۔ کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
انہوں نے کہا کہ کل وانا میں بھی گاڑی سوار خودکش حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا، وانا میں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے۔
وانا حملے میں افغانستان ملوث ہے، وہاں افغانستان میں کمیونیکیشن ہوتی رہی۔
وزیر اعظم نے زخمیوں کے فوری علاج ہدایت کی،خود کش حملہ اور کچہری کے اندر جانے کا پلان کر رہا تھا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔