بھاری جرمانوں پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ کا ای چالان کی رقم میں کمی پر غور
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق حکومت اور پولیس کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صرف جرمانے لگانے سے ٹریفک کے کلچر میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، اس کے لیے شہری اداروں اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کو شامل کر کے مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حال ہی میں متعارف کرائے گئے ای ٹکٹنگ نظام خصوصاً بھاری جرمانوں اور ناکافی سڑکوں کے انفرااسٹرکچر پر عوامی ردعمل کے بعد حکومت سندھ نے مختلف خلاف ورزیوں پر چالان کی رقم کم کرنے پر غوروخوض کرنا شروع کردیا ہے۔ شہریوں اور سیاسی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت، سندھ حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کی ہے کہ بھاری جرمانے محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بنائے گئے ہیں۔ کم از کم 3 درخواستیں سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی جا چکی ہیں، ان پر عدالت نے حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ اس کے باوجود بعض حلقوں نے اعتراف کیا ہے کہ ای ٹکٹنگ کے بعد گاڑیاں ٹریفک سگنل پر مقررہ جگہ پر رکنے لگی ہیں اور موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہننے لگے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ حکمران جماعت کے کراچی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور بعض اعلیٰ پولیس افسران نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ ایک اچھے اقدام کو بعض سیاسی حلقوں نے اپنے مفاد کے لیے متنازع بنا دیا ہے کیونکہ کچھ خلاف ورزیوں پر جرمانے بہت زیادہ ہیں۔ ان کی تجویز تھی کہ صوبائی حکومت تنقید کم کرنے کے لیے جرمانوں میں کمی کر سکتی ہے یا انہیں ایک مقررہ مدت کے لیے معقول سطح پر لا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور پولیس کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صرف جرمانے لگانے سے ٹریفک کے کلچر میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، اس کے لیے شہری اداروں اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کو شامل کر کے مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔
جب آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے پوچھا گیا کہ کیا اس نظام کی کامیابی مختلف اداروں کے باہمی تعاون پر منحصر ہے تو انہوں نے کہا کہ بالکل، ٹریکس کی طویل مدتی کامیابی ٹریفک پولیس، مقامی انتظامیہ، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ، ٹی ایم سی، کے ایم سی اور دیگر شہری اداروں کے قریبی اشتراک پر منحصر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جرمانوں کا اسٹرکچر شہریوں کی آمدنی کے لحاظ سے نہیں بلکہ قانون شکنی سے باز رکھنے اور روڈ سیفٹی کو مدِنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، ٹریفک جرمانے کوئی ناگزیر بوجھ نہیں، بلکہ انہیں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ سے آسانی سے روکا جا سکتا ہے، مقصد آمدنی نہیں بلکہ نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور سڑکوں پر حفاظت کا کلچر فروغ دینا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ پہلی بار خلاف ورزی کرنے والے افراد 10 دن کے اندر ذاتی طور پر معافی نامہ جمع کرا کے جرمانہ ختم کروا سکتے ہیں، تاہم امکان ہے کہ حکومت اس ماہ کے آخر تک بعض خلاف ورزیوں پر جرمانے میں واضح کمی کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظام کو ختم یا معطل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے پورے کراچی اور بعد ازاں صوبے کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے گی، فی الحال اگر کسی گاڑی کا رجسٹرڈ مالک اسے بیچ چکا ہو مگر خریدار نے اپنے نام منتقل نہ کرائی ہو تو ای ٹکٹ اسی سابقہ مالک کو ملتا ہے، اس صورت میں مالک کو ایکسائز اور پولیس دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ گاڑی اب اس کی نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت اور پولیس کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔