امیر جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور بار سے خطاب میں کہنا تھا کہ جب 26ویں ترمیم کی جا رہی تھی اس وقت بھی ہمارا موقف تھا کہ ہم آئین کیساتھ کھڑے ہیں اور اب بھی ہم اُسی موقف پر کھڑے ہیں۔ ستائیسویں اورچھبیسویں ترمیم عوام کیلئے نہیں بلکہ خود کو مضبوط  بنانے کیلئے ہے، جب ضرورت پڑتی ہے، سب ایک ہو جاتے ہیں۔ حافظ نعیم نے کہا کہ پندرہ سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور اب اگر انتخابات کرانے کی بات ہو رہی ہے تو غیرجماعتی بنیادوں پر۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں موجودہ نظام کو بدلنےکیلئے وکلا برادری کیساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہو گی، اب ہم کسی شخصیت کے ہاتھوں دھوکہ نہیں کھائیں گے، کسی کے لگائے نعروں میں نہیں آئیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کو لاہور بار کے صدر مبشرالرحمان نے وکلا سے خطاب کیلئے خصوصی دعوت دی تھی۔ حافظ نعیم الرحمان کے خطاب سے قبل لاہور بارایسوسی ایشن کے صدر نے خطاب کرتے ہوئے ستائیسویں ترمیم پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، آئین کے تحفظ کیلئے وکلا اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے وکلا آج بھی آئین کیساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ آئین کے تحفظ کیلئے کھڑے رہیں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح آہین کا حلیہ 26ویں اور 27ویں ترمیم لا کر بگاڑا جا رہا ہے، ہم ان شااللہ اس کو اپنی اصل حالت میں بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب 26ویں ترمیم کی جا رہی تھی اس وقت بھی ہمارا موقف تھا کہ ہم آئین کیساتھ کھڑے ہیں اور اب بھی ہم اُسی موقف پر کھڑے ہیں۔ ستائیسویں اورچھبیسویں ترمیم عوام کیلئے نہیں بلکہ خود کو مضبوط  بنانے کیلئے ہے، جب ضرورت پڑتی ہے، سب ایک ہو جاتے ہیں۔ حافظ نعیم نے کہا کہ پندرہ سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور اب اگر انتخابات کرانے کی بات ہو رہی ہے تو غیرجماعتی بنیادوں پر۔ خطاب سے قبل حافظ نعیم الرحمان کو بار کے صدر مبشرالرحمان نے گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاءالدین انصاری ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی الرحمان نے لاہور بار نے کہا کہ کھڑے ہیں اور اب بھی ہم

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن