پنجاب میں سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں میں 8 خطرناک گینگز کا صفایا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
سٹی42: پنجاب کے مختلف شہروں میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائیوں کے دوران 8 خطرناک گینگز کا صفایا کر دیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے ان کامیاب کارروائیوں پر 8 شہروں کی سی سی ڈی ٹیموں کے لیے 4 کروڑ 75 لاکھ روپے کے نقد انعامات کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور گینگ ریپ کے ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر 50 لاکھ روپے انعام کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ فیصل آباد کے شاہ گینگ کے خاتمے پر 1 کروڑ 50 لاکھ روپے نقد انعام دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
اسی طرح ملتان میں وسیم کلہاڑا گینگ کے خاتمے پر 80 لاکھ روپے اور ساہیوال کے لوری گینگ کے خلاف کارروائی پر 50 لاکھ روپے انعام دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مزید برآں، حافظ آباد گینگ ریپ کے ملزمان کی ہلاکت پر بھی 50 لاکھ روپے،راولپنڈی جھاکا گینگ کے خلاف کارروائی پر 45 لاکھ روپے،سیالکوٹ کے گینگسٹر بلال عرف بھالو کے خلاف کارروائی پر 25 لاکھ روپےاور گوجرانوالہ کے بادام گل گینگ کے خاتمے پر 25 لاکھ روپے نقد انعام دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
طلبہ کی موج مستیاں ختم، تعلیمی اداروں پر ایک بڑی پابندی عائد
حکام کے مطابق یہ تمام سفارشات منظوری کے لیے اعلیٰ سطح پر ارسال کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 لاکھ روپے کی گئی ہے گینگ کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔