آئی ایم ایف کا وفد پبلک فنانس، بجٹ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک تکنیکی وفد ملک کے پبلک فنانس مینجمنٹ اور بجٹ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد مالیاتی پالیسیوں، آڈٹ کے طریقوں اور اخراجات میں شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات پر سرکاری حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گا۔
تکنیکی وفد کو پبلک فنانس منیجمنٹ پلان کی نگرانی کیلئے کمیٹی کی تشکیل سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم نے گزشتہ دس سال کے دوران جاری کردہ ضمنی گرانٹس کا آڈٹ کرانے مطالبہ کررکھا ہے جس میں فنڈز کے استعمال کے بارے میں جوابدہی اور وضاحت طلب کی گئی ہے، جبکہ ٹیم نے وفاقی حکومت کے اخراجات کو محدود کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
آئی ایم ایف وفد بجٹ پریکٹس میں تبدیلی اور اہداف پرعملدرآمد کا جائزہ لے گا۔ آئی ایم ایف نے مالی نظم وضبط کی پالیسی پرعملدرآمد پر زوردیا جبکہ اس کے علاوہ حکومت سے توانائی اورآپریشنل نقصانات کم کرنیکا مطالبہ کیا۔
آئی ایم ایف نے قرضوں کے بہتر استعمال اور اخراجات میں شفافیت پر بھی زور دیا اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری اور سبسڈی کے درست استعمال کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔