سندھ اور بلوچستان کے 120 طلبا کیمبرج امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والوں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کیمبرج بورڈ کے اے اور او لیول کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلبا کی تفصیلات جاری کردی گئیں ہیں۔
کیمبرج امتحانی بورڈ نے کراچی میں ایک منعقدہ تقریب میں اے اور او لیول میں نمایاں کارکردگی کے حامل سندھ اور بلوچستان کے طلبہ کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں کیمبرج کے “آؤٹ اسٹینڈنگ کیمبرج لرنر ایوارڈز” میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والوں میں ان طلبہ کے نام سامنے آئے ہیں جنہوں نے “آؤٹ اسٹینڈنگ کیمبرج لرنر ایوارڈز” میں نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
یہ ایوارڈز جون 2025 کے کیمبرج امتحانی سلسلے میں سندھ اور بلوچستان کے ثانوی سطح کے طلبہ کی شاندار کارکردگی کو سراہنے کے لیے دیے گئے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے 106 سے زائد طلبہ کو 120 ایوارڈز دیے جائیں گے جنہوں نے کیمبرج IGCSE، O Level اور International AS & A Level کے امتحانات میں غیر معمولی نمبر حاصل کیے۔
ان میں وہ 26 طلبہ بھی شامل ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے، اور 53 طلبہ جنہوں نے کسی ایک مضمون میں سندھ و بلوچستان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔
اس سال پاکستان بھر کے 317 طلبہ کو مجموعی طور پر 355 ایوارڈز دیے جا رہے ہیں، جن میں83 طلبہ جنہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے.
کیمبرج اعلامیے کے مطابق عظمی یوسف، ڈائریکٹر برائے انٹرنیشنل ایجوکیشن، کیمبرج پاکستان نے کہا ہے کہ ہر سال ہمیں پاکستان بھر کے طلبہ کی محنت، عزم اور صلاحیت سے متاثر ہونے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شاندار نتائج نہ صرف ان کی محنت کا ثبوت ہیں بلکہ ان کے اساتذہ، اسکولوں اور خاندانوں کی غیر متزلزل حمایت کا نتیجہ بھی ہیں۔ جیسے جیسے ہماری دنیا ترقی کر رہی ہے اختراع، ٹیکنالوجی اور نئے تعلیمی طریقوں سے یہ طلبہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مضبوط تعلیمی بنیاد مستقبل کے لیے درکار اعتماد اور لچک پیدا کرتی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ان کی کامیابیوں اور ہمارے اسکولوں کے کردار پر فخر ہے جو عالمی سوچ رکھنے والے اور مستقبل کے لیے تیار طلبہ کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے سندھ اور بلوچستان کے جنہوں نے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔