27 ویں ترمیم: پیپلز پارٹی نے صدر کیلئے تاحیات استثنیٰ اور نیب خاتمے کے مطالبات پیش کردیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
27ویں آئینی ترمیم سے متعلق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ مذاکرات میں پیپلز پارٹی نے دو اہم مطالبات پیش کیے ہیں — صدرِ مملکت کے لیے تاعمر استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے خاتمے کا۔
آئین کی شق 248 کے مطابق صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس شق میں واضح طور پر درج ہے کہ ’’کسی بھی عدالت میں صدر یا گورنر کے خلاف ان کے عہدے کے دوران کسی قسم کی فوجداری کارروائی نہ تو شروع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی جاری رکھی جا سکتی ہے۔‘‘ تاہم، پیپلز پارٹی نے اس استثنیٰ کو عہدے کی مدت سے آگے بڑھاتے ہوئے تاعمر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر پارلیمنٹ اس تجویز کو منظور کر لیتی ہے تو صدر کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجداری کارروائی — خواہ پرانی ہو یا نئی — ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی نہیں ہو سکے گی۔ اسی طرح، پیپلز پارٹی نے نیب کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے، جو میثاقِ جمہوریت کا حصہ تھا، جس پر 2006 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے دستخط کیے تھے۔
میثاقِ جمہوریت کے مطابق، نیب کو ایک خودمختار احتساب کمیشن سے تبدیل کیا جانا تھا، جو پارلیمانی نگرانی میں شفاف انداز میں کام کرے۔ 27ویں آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ پارلیمانی کمیٹی کے جائزے کے بعد اُس وقت حتمی شکل اختیار کرے گا جب اس کی رپورٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔