جے یو آئی کا 27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹر کے خلاف کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) نے 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ بننے والے پارٹی سینیٹر کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر نے حمایت میں ووٹ دے دیا
جے یو آئی کے سینیئر رہنما عبدالغور حیدری نے کہاکہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والے سینیٹر کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔
انہوں نے کہاکہ ہماری نظر میں آئین میں ترمیم قومی مفاد میں ہوتی ہے، جے یو آئی نے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر احمد خان اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ نہ بننے کا اعلان کررکھا ہے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم بالکل بے ضرر ہے، رانا ثنااللہ
ایوان بالا میں آئینی ترمیم کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، اور نعرے بازی کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جمعیت علما اسلام جے یو آئی شدید احتجاج عبدالغفور حیدری کارروائی کا اعلان نعرے بازی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمعیت علما اسلام جے یو ا ئی عبدالغفور حیدری کارروائی کا اعلان وی نیوز 27ویں ا ئینی ترمیم والے سینیٹر جے یو ا ئی کا اعلان کے خلاف میں ووٹ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔