آئی ایم ایف کی حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ میں تکنیکی معاونت کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
آئی ایم ایف نے حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ میں تکنیکی معاونت کی پیشکش کردی، نئے این ایف سی فارمولے میں آبادی کا حصہ کم جب کہ تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل کو شامل کرنے پر غورکیا جارہا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے نیا فارمولا تیار کرنے کی کوششوں کی تناظر میں آئی ایم ایف نے بھی حکومت کو تیکنیکی معاونت کی پیش کش کی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی این ایف سی پر باقاعدہ مشاورت نہیں ہوئی، ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نئے این ایف سی کا فارمولا کیا ہوگا تاہم نیا این ایف سی فارمولا طویل المدتی قومی مفاد مدنظر رکھ کر طے ہوگا، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی ضرورت پر غور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق این ایف سی کمیشن کے اجلاس کیلئے 18 نومبر کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔
حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی آبادیاتی و ساختی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان فارمولے پر ازسرنو مشاورت کی تجویز زیرغور ہے، مجوزہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا حصہ 82 فیصد سے کم کرنے کی تجویز ہے وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل شامل کرنے پر غور جاری ہے۔
24 کروڑ 15 لاکھ سے زائد آبادی کو نئے فارمولے کی بنیاد بنانے کی تجویز ہے۔ کارکردگی اور ماحولیاتی اقدامات پر وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی زیرغور ہے، وفاق اور صوبوں کے مالی اختیارات کی ازسرنو وضاحت کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نئے این ایف سی اور صوبوں کے آئی ایم ایف
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔