پاکستان نے ای این آئی سے منگوائے جانے والے 21 ایل این جی کارگو منسوخ کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پاکستان نے طویل المدتی معاہدے کے تحت اٹلی کی کمپنی اینی (ای این آئی) سے 21 لیکوفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کارگو منسوخ کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری دستاویز اور 2 ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اقدام اضافی درآمدات کو محدود کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے، ضرورت سے زیادہ درآمد شدہ گیس سے ملک کے گیس کا نیٹ ورک بھر چکا ہے۔
ریاستی ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی جانب سے 22 اکتوبر کو وزارتِ توانائی کو بھیجی گئی ایک دستاویز کے مطابق، 2026 کے لیے منصوبہ بند 11 کارگو اور 2027 کے لیے 10 کارگو گیس کی تقسیم کار کمپنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی درخواست پر منسوخ کیے جائیں گے۔
دستاویز کے مطابق، صرف جنوری میں بھیجے جانے والے کارگو (دونوں سالوں کے) اور دسمبر 2027 کے کارگو کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ سردیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
معاملے سے واقف پاکستان کے 2 ذرائع نے بتایا کہ اینی نے یہ قدم معاہدے میں موجود لچکدار شقوں کے تحت اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، اس وقت دنیا بھر میں ایل این جی کی طلب بہت زیادہ ہے، اور عموماً سپلائرز مختصر مدتی (اسپاٹ مارکیٹ) میں فروخت کر کے طویل المدتی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔
قطر سے ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر نظرثانی
ای این آئی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جب کہ پی ایل ایل، ایس این جی پی ایل، اور وزارتِ پیٹرولیم نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
پی ایل ایل کا یہ اقدام پاکستان کی جانب سے ایل این جی کی درآمدات کم کرنے کی سب سے بڑی کوششوں میں سے ایک ہے، کیوں کہ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال اور صنعتی طلب میں کمی کی وجہ سے ملک میں درآمد شدہ گیس کی اضافی مقدار موجود ہے۔
ای این آئی نے 2017 میں پی ایل ایل کے ساتھ ایک طویل المدتی سپلائی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت وہ 2032 تک ہر ماہ ایک کارگو فراہم کرنے کی پابند تھی، تاہم معاہدے میں جہازوں کو دوسری منزلوں پر منتقل کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان خلیجی ملک قطر کے ساتھ بھی گیس سپلائی کے معاملات پر بات چیت کر رہا ہے، اس میں کچھ کارگو موخر کرنے یا دوبارہ فروخت کرنے کے اختیارات زیر غور ہیں، جو معاہدے کی موجودہ شقوں کے مطابق ممکن ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایک تکنیکی ٹیم کراچی پہنچی تھی، تاکہ کارگو شیڈول ترتیب دیا جا سکے، بات چیت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
قطر انرجی نے بھی اس حوالے سے کسی تبصرے سے گریز کیا۔
گیس کی طلب میں کمی
پاکستان کے طویل المدتی ایل این جی سپلائی معاہدے )قطر اور ای این آئی کے ساتھ) سالانہ تقریباً 120 کارگو پر مشتمل ہیں، جن میں دو قطری معاہدوں کے تحت ماہانہ اوسطاً 9 اور ای این آئی کے ساتھ ایک کارگو شامل ہے۔
تاہم، اس سال پاکستان کی ایل این جی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیوں کہ شمسی اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے بجلی گھروں کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔
بجلی گھر اور صنعتی یونٹ جو اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، ان کی گیس استعمال میں کمی نے نظام میں زیادہ فراہمی (اوور سپلائی) پیدا کر دی ہے، جو کئی سال میں پہلی بار ہوا ہے۔
گیس کی اس اضافی فراہمی نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ گیس کو بھاری رعایتوں پر فروخت کرے، مقامی پیداوار کم کرے، اور اضافی کارگو کے لیے آف شور ذخیرہ یا دوبارہ فروخت جیسے اقدامات پر غور کرے۔
یہ تفصیلات رائٹرز کے زیرِ جائزہ سرکاری پریزنٹیشنز میں سامنے آئیں۔
کپلر (Kpler) کے اعداد و شمار کے مطابق ای این آئی کی آخری ترسیل شدہ کارگو 3 جنوری کو گیس پورٹ ٹرمینل پر موصول ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور ای این آئی کے درمیان 2025 میں مزید کارگو وصول نہ کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔
2024 میں ای این آئی نے پاکستان کو 12 کارگو فراہم کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طویل المدتی پی ایل ایل ایل این جی کے مطابق کے ساتھ کے تحت گیس کی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔