پاک افغان جنگ بندی پر اتفاق؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور افغانستان نے ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ افغانستان، پاکستان، ترکیہ، قطر کے نمائندوں نے 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک استنبول میں جنگ بندی کے لیے اجلاس منعقد کیے جن کا مقصد اس جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا جو کہ 18 اور 19 اکتوبرکو دوحا میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان طے پائی تھی۔ اس اعلامیے کے مطابق فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے اور عمل درآمد کے مزید طریقہ کار پر غور و خوض اور فیصلہ استنبول میں 6 نومبر 2025 کو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اس طرح ایک مانیٹرنگ اور تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو امن کے تسلسل کو یقینی بنائے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق پر سزا عائدکرے گا اور دونوں فریق بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کی جانب بڑھ سکیں گے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کا محور وہی بنیادی مطالبہ تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں گروہوں کے خلاف واضح، قابل تصدیق اور موثر کارروائی کرے۔ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
بلاشبہ اس مذاکراتی عمل اور یہ اعلامیہ خطے میں امن، استحکام کے فروغ کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے اور خطے میں امن کے لیے یہ بہترین کوشش ہے۔ اس اعلامیہ کا بنیادی نقطہ افغان سرزمین کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے قابل عمل اور ٹھوس شواہد رکھے جو افغان فریق اور میزبان ممالک نے تسلیم کیے۔ البتہ افغان وفد نے بنیادی نکتہ سے ہٹ کر بحث کو موڑنے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے مذاکرات متوقع نتیجہ تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ پاکستان نے استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے دوران افغانستان کے نمائندہ وفد پر اپنی امیدوں اور احتیاطی حکمت عملی دونوں کے ساتھ اپنی پالیسی واضح کی۔ حکومت پاکستان نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کا مقصد افغان عوام کی بہبود اور دونوں ملکوں کی سلامتی ہے اور خطے میں دیرپا امن ہماری اولین ترجیحی ہے۔ جس کے لیے سفارتی راستے اختیار کیے گئے ہیں۔ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ بھارت کے کہنے پر افغانستان کی جانب سے دہشت گردی یا ٹی ٹی پی کی پشت پناہی ہوگی تو پھر پاکستان اپنی عوام کے تحفظ اور وطن عزیز کی سلامتی کے لیے تمام ممکنہ کارروائیاں کرنے کا پابند ہے۔ تاکہ دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور حامیوں کو ختم کیا جاسکے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کے کہنے اور ان کی مداخلت پر کابل کے روئیے میں تبدیلی آئی ہے۔ افغانستان اگر اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ مستقبل میں دہشت گردوں کی مزید پشت پناہی نہیں کرے گا تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ تمام شرائط کی بنیاد امن ہے اور اگر امن نہیں ہوگا تو آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح سے افغان طالبان کی دھوکا دہی پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم افغان طالبان کی دھوکا دہی مزید برداشت نہیں کریں گے۔ اگر وہ لڑنا چاہتے ہیں تو دنیا سب کچھ دیکھے گی۔ ہم طالبان کو دوبارہ غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے برادر ملکوں کی درخواست پر افغانستان سے امن کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ لیکن افغان حکام کے زہریلے بیانات طالبان کی بدنیت سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ افسوس طالبان حکومت نے افغانستان کو دوبارہ تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ افغانستان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں پوری طاقت استعمال کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی اگر ہم چاہیں تو تورا بورا کی شکست کے مناظر ایک بار پھر دہرائیں گے۔
افغان طالبان صرف اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی جنگی معیشت صرف تباہی اور خونریزی پر قائم ہے۔ افغان طالبان اپنی کمزوری اچھی طرح جانتے ہیں مگر وہ جنگی نعرے لگا رہے ہیں جس سے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ طالبان سے افغانستان اور اس کے عوام کو مزید تباہ وبرباد کرنا چاہتی ہے۔ افغانستان ماضی میں سلطنتوں کے کھیل کا میدان رہا ہے اور افغان عوام کی تباہی کا مرکز افغان حکومت اگر ایسا پھر چاہتی ہے تو ایسا ہی ہوجائے۔ افغان طالبان کے جنگ پسند عناصر نے ہماری محبت کو غلط سمجھا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر افغان طالبان جنگ چاہتے ہیں اور لڑنا چاہتے ہیں تو دنیا اب سب کچھ دیکھے گی ہماری دھمکیاں صرف تماشا نہیں بلکہ حقیقت ہے۔
خطے میں کشیدگی کم کرنے اور کسی بھی تنازع سے بچنے کی ضرورت ہے۔ فتنہ الخوارج کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی اور دراندازی کی کوشش کررہی ہے۔ جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ حکومت پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ پاکستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم باقی خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ جبکہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزم استحکام مہم، کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ مہم نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظور شدہ وژن کے مطابق ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جاری ہے۔ بلاشبہ جنگ کسی بھی صورت میں پاکستان یا افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے اور اس جنگ میں دونوں طرف سے مارے جانے والے کلمہ گو مسلمان ہی ہوں گے۔ پاکستان اور افغانستان کا جنگ بندی پر اتفاق اور مذاکرات کی بحالی خوش آئند بات ہے۔ کابل کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان نے چالیس سال تک اپنے افغان بھائیوں کی میزبانی کی ہے اور بھارت کے ایماء پر اپنے بردار اسلامی ملک کے ساتھ اس قسم کا رویہ ایک المیہ ہے۔ ان شاء اللہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوں گے۔ بھارت پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کا دشمن ہے بھارت کو دوست ملک قرار دینا افغانستان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی ہے اور افغانستان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور افغان عوام خود جلد ایسی نااہل حکومت کو اقتدار سے اُتار پھینکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے لیے استعمال افغان سرزمین افغان طالبان دہشت گردی کے مذاکرات کے پاکستان نے طالبان کی پر اتفاق کہ افغان کی جانب ہے اور
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔