Jasarat News:
2026-07-24@02:56:44 GMT

پاک افغان جنگ بندی پر اتفاق؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اور افغانستان نے ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ افغانستان، پاکستان، ترکیہ، قطر کے نمائندوں نے 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک استنبول میں جنگ بندی کے لیے اجلاس منعقد کیے جن کا مقصد اس جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا جو کہ 18 اور 19 اکتوبرکو دوحا میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان طے پائی تھی۔ اس اعلامیے کے مطابق فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے اور عمل درآمد کے مزید طریقہ کار پر غور و خوض اور فیصلہ استنبول میں 6 نومبر 2025 کو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اس طرح ایک مانیٹرنگ اور تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو امن کے تسلسل کو یقینی بنائے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق پر سزا عائدکرے گا اور دونوں فریق بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کی جانب بڑھ سکیں گے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کا محور وہی بنیادی مطالبہ تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں گروہوں کے خلاف واضح، قابل تصدیق اور موثر کارروائی کرے۔ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

بلاشبہ اس مذاکراتی عمل اور یہ اعلامیہ خطے میں امن، استحکام کے فروغ کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے اور خطے میں امن کے لیے یہ بہترین کوشش ہے۔ اس اعلامیہ کا بنیادی نقطہ افغان سرزمین کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے قابل عمل اور ٹھوس شواہد رکھے جو افغان فریق اور میزبان ممالک نے تسلیم کیے۔ البتہ افغان وفد نے بنیادی نکتہ سے ہٹ کر بحث کو موڑنے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے مذاکرات متوقع نتیجہ تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ پاکستان نے استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے دوران افغانستان کے نمائندہ وفد پر اپنی امیدوں اور احتیاطی حکمت عملی دونوں کے ساتھ اپنی پالیسی واضح کی۔ حکومت پاکستان نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کا مقصد افغان عوام کی بہبود اور دونوں ملکوں کی سلامتی ہے اور خطے میں دیرپا امن ہماری اولین ترجیحی ہے۔ جس کے لیے سفارتی راستے اختیار کیے گئے ہیں۔ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ بھارت کے کہنے پر افغانستان کی جانب سے دہشت گردی یا ٹی ٹی پی کی پشت پناہی ہوگی تو پھر پاکستان اپنی عوام کے تحفظ اور وطن عزیز کی سلامتی کے لیے تمام ممکنہ کارروائیاں کرنے کا پابند ہے۔ تاکہ دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور حامیوں کو ختم کیا جاسکے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کے کہنے اور ان کی مداخلت پر کابل کے روئیے میں تبدیلی آئی ہے۔ افغانستان اگر اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ مستقبل میں دہشت گردوں کی مزید پشت پناہی نہیں کرے گا تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ تمام شرائط کی بنیاد امن ہے اور اگر امن نہیں ہوگا تو آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح سے افغان طالبان کی دھوکا دہی پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم افغان طالبان کی دھوکا دہی مزید برداشت نہیں کریں گے۔ اگر وہ لڑنا چاہتے ہیں تو دنیا سب کچھ دیکھے گی۔ ہم طالبان کو دوبارہ غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے برادر ملکوں کی درخواست پر افغانستان سے امن کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ لیکن افغان حکام کے زہریلے بیانات طالبان کی بدنیت سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ افسوس طالبان حکومت نے افغانستان کو دوبارہ تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ افغانستان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں پوری طاقت استعمال کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی اگر ہم چاہیں تو تورا بورا کی شکست کے مناظر ایک بار پھر دہرائیں گے۔

افغان طالبان صرف اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی جنگی معیشت صرف تباہی اور خونریزی پر قائم ہے۔ افغان طالبان اپنی کمزوری اچھی طرح جانتے ہیں مگر وہ جنگی نعرے لگا رہے ہیں جس سے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ طالبان سے افغانستان اور اس کے عوام کو مزید تباہ وبرباد کرنا چاہتی ہے۔ افغانستان ماضی میں سلطنتوں کے کھیل کا میدان رہا ہے اور افغان عوام کی تباہی کا مرکز افغان حکومت اگر ایسا پھر چاہتی ہے تو ایسا ہی ہوجائے۔ افغان طالبان کے جنگ پسند عناصر نے ہماری محبت کو غلط سمجھا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر افغان طالبان جنگ چاہتے ہیں اور لڑنا چاہتے ہیں تو دنیا اب سب کچھ دیکھے گی ہماری دھمکیاں صرف تماشا نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

خطے میں کشیدگی کم کرنے اور کسی بھی تنازع سے بچنے کی ضرورت ہے۔ فتنہ الخوارج کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی اور دراندازی کی کوشش کررہی ہے۔ جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ حکومت پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ پاکستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم باقی خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ جبکہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزم استحکام مہم، کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ مہم نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظور شدہ وژن کے مطابق ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جاری ہے۔ بلاشبہ جنگ کسی بھی صورت میں پاکستان یا افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے اور اس جنگ میں دونوں طرف سے مارے جانے والے کلمہ گو مسلمان ہی ہوں گے۔ پاکستان اور افغانستان کا جنگ بندی پر اتفاق اور مذاکرات کی بحالی خوش آئند بات ہے۔ کابل کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان نے چالیس سال تک اپنے افغان بھائیوں کی میزبانی کی ہے اور بھارت کے ایماء پر اپنے بردار اسلامی ملک کے ساتھ اس قسم کا رویہ ایک المیہ ہے۔ ان شاء اللہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوں گے۔ بھارت پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کا دشمن ہے بھارت کو دوست ملک قرار دینا افغانستان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی ہے اور افغانستان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور افغان عوام خود جلد ایسی نااہل حکومت کو اقتدار سے اُتار پھینکے گی۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے لیے استعمال افغان سرزمین افغان طالبان دہشت گردی کے مذاکرات کے پاکستان نے طالبان کی پر اتفاق کہ افغان کی جانب ہے اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار