پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پارٹی اراکین کے خلاف کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی ہے جس کے حق میں تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر احمد خان نے بھی ووٹ دیا ، دونوں جماعتوں نے اپنے اراکین کیخلاف آرٹیکل 62 کے تحت کارروائی کا اعلان کر دیاہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر نے کہاہے کہ ہم نے پارلیمانی پارٹی کو ہدایت دی تھی کہ کوئی مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالے گا، ایک رکن نے ہماری پالیسی کے خلاف ووٹ دیا، ہم سیف اللہ ابڑو کے خلاف،آرٹیکل 62 کے تحت کارروائی کرنے کاآغازکریں گے ، ہم سیف اللہ کو اپنی پارٹی میں نہیں رہنے دیں ،ان کی رکنیت بھی ختم کرائیں گے۔
ذرائع کے کہنا ہے کہ سینیٹ کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان نے سینیٹ اجلاس سے واک آوٹ کیا اور کہا کہ سیف اللہ ابڑو ایسا شخص نہیں تھا مجھے افسوس ہوا اس نے ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا ، ترمیم آئین اور جمہوریت کے منافی ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہمارےرکن کی طرف سے پارٹی آئین اور سینیٹ آئین کی خلاف ورزی کی گئی، مولانافضل الرحمان بنگلہ دیش سے واپس آئیں تو کارروائی ہو گی، پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے پر آرٹیکل 62 لگے گا، جس رکن نے پارٹی آئین کی خلاف ورزی کی اسکی سینیٹ رکنیت ختم ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔