ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے، وزیراعظم نے اسلام آباد دھماکے کی تحقیقات کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد ضلع کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اسلام آباد ضلع کچہری میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید افراد کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔
’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارتی دہشتگرد پراکسیز کے پاکستان کے نہتے شہریوں پر دہشتگرد حملے قابل مذمت ہیں، واقعےکی تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کردم لیں گے۔ افغانستان سےکارروائی کرتے فتنہ الخوارج نے وانا میں معصوم بچوں پر بھی حملہ کیا، بھارتی پشت پناہی اور افغان سرزمین سے جاری حملوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، نہتے و معصوم پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
سری لنکا کیخلاف پچھلی سیریز کی طرح اچھا کرنے کی کوشش کریں گے: شاہین آفریدی
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کی تمام تر ہمدردیاں شہداء کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں اور حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔