واٹس ایپ نے انسٹاگرام طرز کی نئی خصوصیت متعارف کرا دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
واٹس ایپ ایک نئی فیچر پر کام کر رہا ہے جس کے ذریعے نامعلوم نمبروں سے آنے والے پیغامات براہِ راست چیٹ میں ظاہر ہونے کے بجائے ’ریکویسٹس‘ فولڈر میں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ پر ’ہائی سوسائٹی‘ محبت کا جال، شہری لاکھوں روپے سے محروم
رپورٹ کے مطابق یہ فیچر نامعلوم پیغامات کو روکنے کے بجائے صرف ان کے ظاہر ہونے کا طریقہ تبدیل کرے گا۔ اگر صارف واٹس ایپ کی نئی سیٹنگ ’Who can message me‘ میں ‘Everyone’ کا انتخاب کرتا ہے تو اسے تمام افراد کے پیغامات موصول ہوتے رہیں گے، چاہے وہ نمبر فون بُک میں محفوظ نہ ہو۔
البتہ اگر صارف’My Contacts‘ کا انتخاب کرے تو صرف محفوظ نمبروں سے آنے والی چیٹس براہِ راست ظاہر ہوں گی، جبکہ دیگر پیغامات انسٹاگرام کی طرح ایک الگ فولڈر ’ریکویسٹس‘ میں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کی ایپل واچ ایپلکیشن متعارف، فون نکالے بغیر میسجز دیکھنا ممکن
اس فولڈر میں صارف پیغامات کو دیکھ کر فیصلہ کرسکے گا کہ وہ جواب دینا چاہتا ہے، پیغام حذف کرنا ہے، رپورٹ کرنی ہے یا رابطہ بلاک کرنا ہے۔ اگر صارف کسی پیغام کا جواب دیتا ہے تو وہ چیٹ خود بخود مین چیٹ لسٹ میں منتقل ہوجائے گی۔
واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر فی الحال تیاری کے مراحل میں ہے اور جلد ہی اینڈرائیڈ صارفین کے لیے اپ ڈیٹ کے ذریعے دستیاب ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسٹاگرام پیغام مسیج نامعلوم افراد واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام پیغام نامعلوم افراد واٹس ایپ واٹس ایپ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔