سندھ حکومت نیا ’’سندھ واٹر لا‘‘ متعارف کرانے کیلیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (جسارت نیوز) سندھ حکومت نے سندھ واٹر پالیسی 2023ء کی رہنمائی میں نیا سندھ واٹر لا متعارف کرانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ وزیر آبپاشی کے مطابق یہ قانون سندھ میں پانی کی منصفانہ تقسیم، بہتر انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کیلیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکرٹری آبپاشی ظریف اقبال کھیڑو سے ورلڈ بینک کے وفد نے اہم ملاقات کی۔ ورلڈ بینک کے وفد میں مسٹر بیکیلے ڈیبیلے (لیڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ اسپیشلسٹ)، فرانسوا اونیمس اورمسٹر زیلالم تیسیفے میکونن شامل تھے۔ ملاقات میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نذیر میمن، ایڈیشنل سیکرٹری اطہر بہزاد میمن اور دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں سوات منصوبے (SWAT Project) اور نئے سندھ واٹر قانون کی تیاری میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ واٹر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔