اسلام آباد کچہری خود کش دھماکے کی ویڈیو سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی دارالحکومت کی کچہری میں آج ہوئے خود کش دھماکے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی۔
ویڈیو میں دھماکے سے قبل وکلاء اور شہریوں کی بڑی تعداد اور پولیس موبائل وین کو جائے وقوع پر دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پمز اسپتال اسلام آباد کے ترجمان ڈاکٹر مبشر کے مطابق دھماکے میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پمز اسپتال منتقل کیے جانے والے زخمی افراد کی تعداد 30 ہے، جبکہ زخمیوں میں سے 4 سے 5 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
ترجمان پمز نے یہ بھی بتایا ہے کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خود ایمرجنسی میں موجود ہیں، تمام ڈاکٹرز اس وقت زخمیوں کی جان بچانے میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ آج اسلام آباد میں واقع جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کچہری آیا ہے جس نے پولیس موبائل کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک