آئین کو مسخ کر کے چند افراد کو نواز دیا گیا، اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے: اپوزیشن رہنماؤں کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
تصویر: سوشل میڈیا
سربراہ مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین کو مسخ کر کے چند افراد کو نواز دیا گیا، خود کو مستثنیٰ قرار دینے والوں کے ارادے خطرناک ہیں، اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اسلام آباد میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کل شام سینیٹ سے 27ویں ترمیم کو 64 ووٹوں سے پاس کیا گیا، آپ جانتے ہیں سینیٹ کی تشکیل 26ویں ترمیم کے بعد کیسے ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ ہم ووٹ لے کر آئے ہیں، 8 فروری کو ہمارے ووٹ پر ایک یلغار ہوئی، ایک حملہ ہوا اس کے باوجود جنہیں منتخب ہونے دیا گیا ان کا حق ہے کہ وہ اسمبلی میں بیٹھیں، کیونکہ وہی عوام کی آواز اٹھا رہے ہیں، باقیوں کے تو سر جھکے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اب وکیلوں کی جنگ نہیں عورتوں بچوں بزرگوں ہر ایک کی جنگ ہے زندہ قومیں ثبوت دیا کرتی ہیں، آئین آپ کو حق دیتا ہے سڑکوں پر نکلنے کا اور اپنی آواز بلند کرنے کا۔
سربراہ مجلس وحدت مسلمین راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ آئین کو مسخ کر کے چند افراد کو نواز دیا گیا، آئین میں ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللّٰہ تعالی کی ہے، مفاد پرستوں نے ذاتی مفاد کےلیے ترامیم کر کے عوام کو دھوکا دیا، یہ آپ سے ووٹ مانگنے آئیں گے، ان کو پہچانیں، خود کو مستثنیٰ قرار دینے والوں کے ارادے خطرناک ہیں، اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں عوام کے لیے کچھ نہیں، ترمیم کے لیے 2 سینیٹرز کو دبایا گیا، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا، اب لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟ اب تو صرف اللّٰہ کی عدالت رہ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔