27 ویں ترمیم شخصیات کے فائدے اور نقصانات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی: مصطفیٰ نواز کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم شخصیات کے فائدے اور نقصانات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے، استثنیٰ کی بندر بانٹ جاری ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق تحریک تحفظ آئین کے رہنماؤں کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آئین کا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اشرافیہ اپنے مفادات کےلیے آئین کے اندر ترامیم کر رہے ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم جس طرح پاس کرائی گئی وہ سب کے سامنے ہے، 90 فیصد ممبران کو پتہ بھی نہیں تھا کہ ترمیم میں کیا ہے۔
خیبر پختونخوا:سکولوں میں خسرہ اور روبیلا ویکسینیشن مہم چلانے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ ترمیم کو پاس کروانے میں اہم کردار سپریم کورٹ نے ادا کیا، مخصوص نشستوں سے پی ٹی آئی کو محروم کردیا اور وہ حکومت کو دی گئیں، حکومت کو مخصوص نشستوں سے مطلوبہ نمبر مل گئے، پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے ذریعے 27 ویں ترمیم لائی جارہی ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ عمرانی معاہدہ ایک فرد کا ریاست کے ساتھ تعلق ہے، 1973 کے آئین کے مطابق ہر ادارہ اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرے گا، یہ ترمیم شخصیات کے فائدے اور نقصانات کو دیکھ کر بنائی گئی ہے، ڈرافٹ پڑھا تو دل اداس ہوگیا کہ یہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں۔
پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کا مشترکہ اجلاس،خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے سمیت مزید3ترامیم پیش
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چھٹی کے دن آئین پر حملہ کیا گیا، پاکستان کی بنیادوں پر حملہ ہوا ہے، یہ بھی 9/11 ہے، ہم سب کچھ جانتے ہوئے اپنے ارادے سے یہاں آئے ہیں، پاکستان پر بغیر الیکشن کے یہ ٹولہ قابض ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، مجھ سے 5 دفعہ ملک کے آئین کے دفاع کا حلف لیا گیا، جھوٹے پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں، عوام کو غلط تاثر دیا جاتا ہے، پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج رات ساڑھے 8 بجے سے ہم نے نعرے شروع کرنے ہیں، آج رات کا نعرہ ایسے دستور کو ہم نہیں مانتے ہے، بانی پی ٹی آئی کے ساتھی تحریک کا کہہ رہے تھے آج سے تحریک شروع ہے، ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔
وزیراعظم کااستثنیٰ کی شق نکالنے کا اقدام مستحسن ہے،وزیرقانون
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔