ستائیسویں ترمیم کا راستہ روکنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے ، اپوزیشن اتحاد کا احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 9 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27 ویں ترمیم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں نامزد اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی محمود اچکزئی، نامزد اپوزیشن لیڈر سینٹ ناصرعباس، مصطفی نواز کھوکھراور دیگر رہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چھٹی کے دن آئین پر حملہ کیا گیا، پاکستان کے بنیادوں پر حملہ ہوا ہے یہ بھی 9/11 ہے، ہم سب کچھ جانتے ہوئے اپنے ارادے سے یہاں آئے ہیں، پاکستان پر بغیر الیکشن کے بد بخت ٹولہ قابض ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، مجھ سے 5 دفعہ ملک کی آئین کی دفاع کا حلف لیا گیا، جھوٹے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں عوام کو غلط تاثر دیا جاتا ہے، افغانستان سے خونی، قبائلی اور لسانی رشتہ ہے۔چیئرمین تحریک تحفظ آئین محمود اچکزئی نے تحریک چلانے اور پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان کیا اور کہا آج سے تحریک شروع ہے، فرد کی مضبوطی پاکستان کو نہیں بچائے گی، سب کو خبردار کرتے ہیں یہ حملہ ملک کی بنیادوں پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا جائے گا، سکول کے بچے اپنے حقوق کیلئے نکلیں گے تو آپ گولیاں چلائیں گے؟ تحریک لبیک سے اختلاف ہوسکتا یے لیکن گولیاں کیوں چلائی ؟ آج رات ساڑھے 8 بجے سے ہم نے نعرے شروع کرنے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج رات کا نعرہ ایسے دستور کو ہم نہیں مانتے ہے، عمران کے ساتھی تحریک کا کہہ رہے تھے آج سے تحریک شروع ہے، ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بنیادی طور پر سماجی معاہدے کا تصور یہ بتاتا ہے کہ ریاست کس طرح شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے گی اور آئین اسی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سماجی معاہدوں کا تعلق شخصیات سے نہیں ہوتا، آئین کے آرٹیکل 243 میں کی جانے والی ترامیم شخصی مفادات پر مبنی ہیں، یہ ایک خاص عہدے کے فائدے کو مدِنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔انہوں نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں ہے کیونکہ اس کا مینڈیٹ جعلی ہے۔سابق سینیٹر نے یہ بھی یاد دلایا کہ 26ویں ترمیم جس طریقے سے منظور کی گئی، وہ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ عدالتِ عظمی نے 27ویں ترمیم کی تیاری میں سب سے اہم کردار ادا کیا، جب اس نے حکومتی اتحاد کی جماعتوں کو مخصوص نشستیں الاٹ کیں۔مزید کہا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 26ویں ترمیم کے تحت قائم کردہ آئینی بینچ نے دیا تھا، جس نے اس سے قبل والا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا، وہ فیصلہ جس کے مطابق تحریکِ انصاف ان نشستوں کی حقدار تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں اتحادی جماعتوں کو درکار اراکینِ پارلیمنٹ کی تعداد پوری ہوگئی، اور اب وہ 27ویں ترمیم منظور کرنے کے قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم حقیقت سے آنکھ نہیں چرا سکتے، یہ پارلیمنٹ ایسے بڑے آئینی اقدامات کرنے کی اخلاقی اور قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔دوسری جانب، تحریکِ انصاف کے پارلیمانی رہنما بریسٹر علی ظفر نے مقف اپنایا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی عدم موجودگی میں اس بل پر بحث کرنا نامناسب ہے۔انہوں نے حکومت اور اس کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ ترمیمات کو جلد بازی میں منظور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بعد ازاں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنے جاری کردہ اعلامیے میں کہا کہ اسی ہفتے اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس بلائی جائے گی، اس کانفرنس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کیا جائے گا۔اس میں کہا گیا کہ 27ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے اگلے دن ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا، عوام سے اپیل ہوگی سیاہ پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ میں شریک ہونگے، وکلا عدالتوں میں کالی پٹیاں پہن کر اس کے خلاف احتجاج کرینگے۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدلیہ کے باضمیر جج صاحبان تحفظات کا اظہار کرینگے، پاکستان میں نئے عمرانی معاہدہ لایا جائے، قومی مشاورتی اجلاس کے بعد ملک گیر جلسے جلوسوں کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوامی رائے سازی کا آغاز کرنا ہے جس کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے، اس مشاورت کو صرف اوپر کی سطح تک نہیں رکھیں گے، تاجر تنظیموں کو بھی اس مشاورت میں شرکت کی دعوت دیں گے، ہر عوامی رائے ساز سے درخواست ہے کہ اس پر خیالات کا اظہار کرے۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا نظام منہدم کیا جارہا ہے، وکلا کا اس مشاورت میں کلیدی کردار ہوگا، بار کونسل شرکت یقینی بنائے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان سے وفد کی صورت میں ملاقات کرینگے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرزہران ممدانی نے پاکستانی خاتون کو اپنی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا زہران ممدانی نے پاکستانی خاتون کو اپنی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا پنجاب پبلک سروس کمیشن کا میرٹ کے نظام میں اصلاحات کا اعلان پنجاب کے اسکولوں میں 23دسمبر سے 11جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا این اے 96جڑانوالہ ضمنی انتخابات،پیپلز پارٹی کا ن لیگ کی حمایت کا اعلان پنجاب بھر میں دفعہ 144کے نفاذ میں 15نومبر تک توسیع طالبان کے اقتدار میں آنے سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملے بڑھے،دفتر خارجہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ تحریک چلانے نے کہا کہ انہوں نے کا اعلان جائے گا

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن