اسلام آباد میں دہشت گردی ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
فائل فوٹو، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دہشت گردی ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے، اب تک دہشت گردی سرحدی علاقوں تک محدود تھی، اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملے سے ہمیں پیغام دیا گیا آپ کے تمام علاقے ہماری زد میں ہیں۔
اسلام آباد کچہری دھماکے پر صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اندازہ تھا ہم پر پریشر ڈالنے کے لیے اس قسم کی کوئی حرکت کی جائے گی، افغان حکومت افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے، ہماری عوام اور افواج دہشت گردی کےخلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی، پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان پر حملے افغان طالبان رجیم کی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ افغان حکومت سے کامیاب ڈائیلاگ کی تھوڑی سی امید تھی، اس حملے کے بعد دیکھنا پڑے گا، ان حالات میں ریاست کو سنجیدہ ہوکر سوچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سارے چیلے کابل میں بیٹھے ہیں، کابل حکومت کس طرح ان کی ذمے داری قبول نہیں کرسکتی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد میں دہشت ریاست کو کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان